خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 356
خطبات طاہر جلدے 356 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۸ء ہیں۔جب آپ طلب کو آزاد کر دیں گے تو ایک موقع ایسا آئے گا کہ یہ عوام جو آپ سمجھتے ہیں کہ صبر سے بیٹھے ہوئے ہیں ، خاموش ہیں ان کی طرف سے آپ کو کوئی خطرہ نہیں یہ اُٹھ کھڑے ہوں گے۔افریقہ میں فسادات شروع ہو جائیں گے۔چنانچہ اس پہلو سے میں نے بعض جگہ مثالیں دیں سب سے زیادہ متاثر میں گیمبیا کے صدر کی پالیسی سے ہوا ہوں۔جنہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے یہ فیصلہ کر رکھا ہے اور اس فیصلے پر قائم ہیں کہ اپنے عوام کے لیے جب تک بنیادی ضرورتیں پیدا کرنے کی ملک میں کوشش نہ جاری ہو اُن کی طلب آزاد نہیں ہونے دینی۔چنانچہ کوئی ٹیلیویژن نہیں ہیں وہاں اور سختی کے ساتھ وہ اس پالیسی پر کار بند ہیں کہ نہ صرف یہ کہ ٹیلیویژن نہیں بلکہ سارے افریقہ میں سے سب سے کم کاریں وہاں آپ کو نظر آئیں گی۔عام غریبانہ زندگی ہے اور اُن کا زور ہے کہ کم سے کم چیزیں باہر سے منگوائی جائیں۔باہر کی دنیا عیش کر رہی ہے تو اس لیے کرتی ہے کہ وہ خود اُس عیش کے سامان پیدا کرتی ہے۔ہم لوگ تو عیش کے سامان پیدا نہیں کر سکتے اس لیے ہمارا حق نہیں ہے کہ ہم وہ عیش کریں۔یہ وہ Policy ہے اُن کی جو عین قرآنی قناعت کی Policy کے مطابق ہے۔اسی وجہ سے آپ یہ دیکھ کے حیران ہوں گے کہ نائیجیر یا با وجود اس کے کہ سینکڑوں گنا زیادہ امیر ہے گیمبیا سے وہاں بے چینی زیادہ ہے اور گیمبیا میں بے چینی کم ہے۔نائیجیریا میں کرائم اور جرائم زیادہ ہیں اور گیمبیا میں تقریباً مفقود ہیں یعنی غربت کے باوجود چوری نہیں ہے اور جب بھی کوئی چور پکڑا جاتا ہے پتا لگتا ہے کہ کسی اور ملک کا آیا ہوا ہے۔تو قناعت کے مضمون کو اگر آپ سمجھیں تو عظیم الشان فوائد رکھتا ہے بنی نوع انسان کے لیے اور کچی آزادی کا پیغام دیتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم پہلے نفسیاتی آزادی کا حکم دیتا ہے، پھر قناعت کا حکم دیتا ہے، پھر اُس کے بعد جو تیسرا حکم ہے قرآن کریم کا آزادی کا پروگرام یہ ہے کہ تم حقوق کی طلب کے بجائے دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ کرو اور یہ تیسرا پہلو قوم کے رجحان کا بالکل رُخ بدل دیتا ہے۔بہت سی دنیا میں جد وجہد اور بے چینیاں ایسی ہیں کہ ایک انسان سمجھتا ہے کہ میرے پاس نہیں ہے تو وہ دوسرے سے چھینٹے کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اس رحجان کے نتیجے میں کبھی بھی اعتدال پر قائم نہیں رہتا وہ ہمیشہ اپنے حق سے بڑھ کر دوسرے کا حق چھینے کی طرف ہاتھ بڑھانے کی کوشش کرتا ہے اور جتنی تحریکات ہیں اشترا کی دنیا میں ہوں یا غیر اشترا کی دنیا میں جن میں غریبوں کو ابھارا جاتا ہے وہاں