خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 347
خطبات طاہر جلدے 347 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۸ء بنی نوع انسان کی آزادی احمدیت سے وابستہ ہے فَكُ رَقَبَةٍ کے وسیع مضمون کی تفسیر (خطبه جمعه فرموده ۲۰ مئی ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: عید کے خطبہ میں میں نے سورۃ البلد کی آخری چند آیات کی تفسیر میں ایک مضمون بیان کیا تھا جس کا تعلق آزادی کی حقیقت سے تھا، آزادی کے فلسفے سے تھا اور یہ جماعت کے سامنے مضمون رکھا تھا کہ قرآن کریم کے نزدیک حقیقی ایمان کچی آزادی کے بغیر نصیب نہیں ہو سکتا اور وہ لوگ جو خود اپنے نفس کو آزاد کرتے ہیں اور لوگوں کی آزادی کے لیے کوشاں ہوتے ہیں اُن کو ہی حقیقی ایمان نصیب ہوتا ہے۔یہ تو معنی مستنبط ہوتا ہے ان آیات سے اور ایک معنی یہ ہے کہ جو لوگ نہیں کرتے۔چنانچہ اُن آیات میں انہی کا ذکر ہے۔جو لوگ ایسا نہیں کرتے ، جب تک وہ ایسا نہ کریں اُس وقت تک وہ ایمان کی حلاوت کو چکھ نہیں سکتے ، ایمان اُن کو نصیب نہیں ہوسکتا۔ان دوسرے معنوں میں ایمان کا اقرار اول مقام پیش نظر ہے۔یعنی وہ لوگ جو ان کاموں کے منافی کام کرتے ہیں ، ان باتوں کے منافی کام کرتے ہیں۔جو بجائے لوگوں کو آزاد کرنے کے ان کو غلام بنانے کی کوشش کرتے ہیں، جو اُن کے حقوق سلب کرتے ہیں، اُن کو خدا کی غلامی سے کھینچ کر بندوں کی غلامی کی طرف گھسیٹ لے جاتے ہیں۔ایسے لوگ ایمان سے عاری رہتے ہیں۔جب تک یہ کام نہ کریں اُس وقت تک اُن کو ایمان کی ادنیٰ حالت بھی نصیب نہیں ہو سکتی۔تو جس قسم کا مفہوم پیش نظر ہو اسی