خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 335 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 335

خطبات طاہر جلدے 335 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۸ء ڈالی ہوگی۔بعض جگہ تو رپورٹیں ملی ہیں لیکن اس معاملے میں زیادہ رپورٹیں نہیں ملیں۔اس لیے میں حسن ظن کا لفظ استعمال کر رہا ہوں۔لیکن اگر خدانخواستہ اس پہلو سے کمزوری ہوئی ہے اور صرف آپ بچوں کو سحری کھانے کے لیے جگا رہے ہیں اور نوافل کی عادت نہیں ڈالی تو بقیہ جو دو تین راتیں رہ گئی ہیں ان میں نوافل کی عادت ڈالنے کی بھی کوشش کریں اور یہ بھی بتائیں کہ تہجد صرف رمضان کے لیے خاص نہیں ہے بلکہ رمضان میں تہجد کے مزے چھک کر وہ بعد میں بھی مہینے میں دو، چار دن ، اگر بچے ہیں تو اور اگر بڑے ہیں تو زیادہ دن تہجد میں با قاعدگی اختیار کرنے کی کوشش کریں۔اس خصوصی رمضان مبارک میں ، ان خصوصی ایام میں جن کا میں نے ذکر کیا ہے جو غیر معمولی ہیں۔جو تاریخی ہیں اس لحاظ سے بھی کہ اب اس کے بعد یہ دوبارہ دکھائی نہیں دیں گے اور تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔رمضان تو آئے گا ، جمعۃ الوداع بھی آئے گا اور ستائیسویں کی راتیں بھی آئیں گی لیکن احمدی پہلی صدی کی یہ سب چیزیں آخری ہوں گی۔اس لحاظ سے یہ سب باتیں تاریخ کا حصہ بننے والی ہیں تو اس میں خصوصیت سے کوشش کریں۔پہلی دعا تو اس بات کی کریں کہ اب اگلی صدی اور ہمارے درمیان میں جو تھوڑا سا فاصلہ رہ گیا ہے اور کام بہت زیادہ ہیں کرنے والے تو خدا تعالیٰ اپنے فضل سے توفیق عطا فرمائے تو وہ کام سرانجام دئے جا سکتے ہیں ورنہ نہیں کیونکہ دن بدن ، جوں جوں اگلی صدی قریب آ رہی ہے میں محسوس کر رہا ہوں کے جو کام ہم نے کرنے تھے، جو یتیں باندھی ہوئی تھیں اُن کے لحاظ سے وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔سب سے اہم کام قرآن کریم کا ایک سو سے زائد زبانوں میں ترجمہ کرنا ہے اور پھر اُن کی اشاعت۔پھر احادیث نبویہ میں سے جو انتخاب ہے اُس کی اشاعت کا کام ہے۔پھر حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کے اقتباسات کے تراجم اور اُس کی اشاعت کا کام ہے۔جب تک آپ اس قسم کے کاموں میں سے گزرے نہ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ کتنا مشکل کتنا گہراذمہ داری کا کام ہے اور کتنا پھیلا ہوا ہے۔ساری دنیا میں مختلف مقامات پر یہ کام پھیلا ہوا ہے اُس کو سمیٹنا اُس کی نگرانی کرنا ، تراجم کی نگرانی کہ وہ درست ہیں، پھر طباعت کے کاموں میں بہت سے ایسے مراحل آتے ہیں جہاں ٹھوکروں کے امکانات ہیں۔آپ جتنی مرضی احتیاطیں کریں، پروف ریڈنگ میں غلطی ہو جائے تو بعض بنیادی غلطیاں ایسی آسکتی ہیں ، ظاہر ہو سکتی ہیں کہ جس میں وہ لوگ جو انتظار کرتے ہیں کہ