خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 334 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 334

خطبات طاہر جلدے 334 خطبه جمعه ۳ ارمئی ۱۹۸۸ء رمضان مبارک میں خصوصیت سے ایک آنے والی مقدس رات کے متعلق صحابہ کو اطلاع دی گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے ستائیسویں رات کولیلۃ القدر کی رات کے طور پر دیکھا اور اُس وقت سے جماعت میں خصوصیت کے ساتھ ستائیسویں رات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے لیلتہ القدر کی تلاش میں۔یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ ہر لیلۃ القدرستائیسویں ہی کو ہو گی۔مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس دور میں جب خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ستائیسویں رات کی خوشخبری دی ہے تو بعید نہیں کہ اکثر لیلۃ القدر کے جلوے ستائیسویں کی رات کو ظاہر ہوں۔چنانچہ جو ہمارا گزشتہ تجربہ ہے۔تجربہ ان معنوں میں کہ زبان خلق جو قادیان میں کہا کرتی تھی۔جب بھی رمضان کے آخری عشرے میں ہم داخل ہوا کرتے تھے تو بعض راتوں کے متعلق آپس میں گفتگو ہوا کرتی تھی اور اپنے اپنے تجارب بیان کیے جاتے تھے۔تو ان معنوں میں جو ہمارا تجربہ ہے۔اُس کی رو سے اکثر راتیں ستائیس کی ہی ہوا کرتی تھیں جن کے متعلق عموماً یہ مشاہدہ تھا کہ وہ لیلتہ القدر سے ملتے جلتے اثرات ظاہر کر گئی ہے۔چنانچہ بہت غیر معمولی دنوں میں تحریک پیدا ہوتی تھی دعا کے لیے اور قبولیت دعا کے ساتھ جو قلبی تحریکات کا تعلق ہے قلبی احساسات کا تعلق ہے۔وہ ایسی باتیں تو نہیں ہیں جو صحیح معنوں میں بتائی جاسکیں لیکن خلاصۂ انسان یہ ضرور کہہ سکتا ہے کہ آج دل پر ایسی کیفیات گزری تھیں جو عام کیفیات سے مختلف ہیں۔جو غیر معمولی درجہ رکھتی تھیں، غیر معمولی مقام رکھتی تھیں۔اس پہلو سے بھی اکثر یہ دیکھا گیا کہ ستائیسویں رات کو سب سے زیادہ عبادت کرنے والوں کو لیلتہ القدر کی سی کیفیات کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا لیکن اس کے علاوہ بھی ہوتا تھا۔بعض دفعہ مجھے یاد ہے بڑی کثرت کے ساتھ پچیس کی رات کو یہ تجربات ہوئے بعض دفعہ تئیس کی رات کو تجربات بھی اس قسم کے ہوئے۔چنانچہ یہ کہنا کہ ایک ہی رات کے لیے مخصوص ہے لیلۃ القدر یہ تو بہر حال غلط ہے۔مختلف راتوں میں یہ خدا تعالیٰ کے جلوے جگہ بدلتے رہتے ہیں اپنے اظہار کے لیے لیکن بالعموم ہمارا یہ مشاہدہ ہے کہ ستائیسویں کی رات اس پہلو سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔تو یہ ستائیسویں رات بھی اس صدی کی آخری ستائیسویں رات ہے جو آنے والی ہے۔اس پہلو سے جو چند دن ہیں اُن کو خصوصیت کے ساتھ دعاؤں میں صرف کریں اور جہاں تک میراحسن ظن ہے میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے اس نصیحت پر بھی عمل کیا ہوگا کہ بچوں کو تہجد کی عادت