خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 332
خطبات طاہر جلدے 332 خطبه جمعه ۳ ارمئی ۱۹۸۸ء تعالیٰ کا بد بو والے منہ سے پیار کرنا عجیب نکتہ ہے۔اس سے پتا چلتا ہے کہ خدا ہم سے محبت کرتا ہے اور اتنی محبت کرتا ہے کہ وہ نظیف ہے، لطیف ہے۔لیکن اپنے پیار کی وجہ سے ، اپنی ہی خاطر جو شخص بھوکا رہتا ہے اُس کے منہ کی بد بو بھی اُس کو اچھی لگنے لگتی ہے۔اس لیے ان باتوں کو خیال کر کے اپنے بقیہ روزوں کو سجائیں اور آباد کرنے کی کوشش کریں۔یہ چند دن جو باقی رہ گئے ہیں۔ان میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور چمکانے کی کوشش کریں اور یہ سوچیں کہ جس طرح ہم دنیا میں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور قربانی کرنے والوں اور اچھے کام کرنے والوں پر نگاہ رکھتے ہیں تو دل بڑھتا ہے اور خوشی ہوتی ہے۔ان روزے کے دنوں میں خدا تعالیٰ کو روزے دار کی ہر ادا پیاری لگ رہی ہوتی ہے۔اگر اُس کی خاطر ہواگر مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّين ہو۔اس لیے اگر اس پہلو سے پیچھے کوئی کمی رہ گئی تو اب جو گنتی کے چند دنوں میں سے بھی چند دن رہ گئے ہیں۔ان میں جد و جہد کریں کوشش کریں اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کے لیے اُس کے پیار پر نگاہ کریں اور ایک پیار دوسرے پیار کر پیدا کرتا ہے۔اس لیے وہ لوگ جن کے دل بھاری ہوں ، جن کے دل خشک ہوں۔اُن کو سمجھانے کی خاطر میں یہ نکتہ بتارہا ہوں کہ اگر اپنے دل سے خدا کی محبت خود بخود نہیں پھوٹ رہی تو اللہ کی محبت پر نگاہ کریں تو پھر اُس کے نتیجے میں آپ کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہوگی۔اس سلسلہ میں چند ایک باتیں خصوصیت کے ساتھ میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ جب وہ کیفیتیں دل میں پیدا ہوں جو خالص اللہ کی محبت کے نتیجے میں دل کو نصیب ہوتی ہیں، وہ قبولیت دعا کے وقت ہوتے ہیں۔اُس وقت آپ جو دعائیں کریں باقی چند روزوں میں خصوصیت کے ساتھ۔اُن میں بعض دعائیں میں نے خصوصیت کے ساتھ اختیار کی ہیں، وہ میں آپ کو یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں کہ ان مضامین کو آپ پیش نظر رکھیں۔سب سے پہلی بات توجہ طلب یہ ہے کہ یہ رمضان مبارک جس میں سے ہم اس وقت گزررہے ہیں یہ ایک خاص رمضان ہے، ایک تاریخی نوعیت کا رمضان ہے کیونکہ یہ احمدیت کی پہلی صدی کا آخری رمضان ہے۔اس کے بعد اس رمضان اور اگلے رمضان کے درمیان اب کوئی فاصلہ نہیں رہا۔ایک صدی کا ایک سرا ہے جو ایک طرف سے ختم ہو گا اور دوسری طرف سے شروع ہوگا اور بیچ