خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 331 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 331

خطبات طاہر جلدے 331 خطبه جمعه ۱۳مئی ۱۹۸۸ء دیئے روزے ، اُس وقت تک جب مجھ سے ملاقات ہوئی پورے روزے رکھے تھے۔کہتے ہیں کہ تکلیف میں بھی اللہ کے فضل سے کمی آگئی ، خود اعتمادی پیدا ہوگئی اور اب پتا لگا ہے کہ روزہ ہوتا کیا ہے ،اس کے مقاصد کیا ہیں، اس کے فوائد کیا ہیں۔جسمانی لحاظ سے بھی بہتر ہوں اور روحانی لحاظ سے بھی بہت بہتر ہوں۔میں اُمید رکھتا ہوں کہ باقی دنیا میں بھی انشاء اللہ خدا کے فضل سے انگلستان کی جماعت جیسا ہی نمونہ دکھایا ہوگا۔ایسے نوجوانوں کے چہرے پر جب نظر پڑتی تھی مُرجھائے ہوئے ہوتے تھے تو میرا دل خوش ہو جاتا تھا۔مجھے اس سے خیال آیا کہ یہ تو موسم موسم اور حال حال کی بات ہوا کرتی ہے۔اگر بچہ امتحان کے دنوں میں محنت کر کے کمزور دکھائی دے تو وہ کمزور چہرہ ماں کو زیادہ پیارا لگا کرتا ہے اور اگر پڑھائی میں محنت نہ کر رہا ہو تو اُس کا بھرا ہوا چہرا اُس کو تکلیف دیتا ہے۔اس لیے سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ جو بھلائی کی بات ہو اُس میں لطف اُٹھائے۔چنانچہ مجھے تو ان کے ایسے چہرے جو فاقے کی وجہ سے اور تکلیف کی وجہ سے سنتے ہوئے اور کمزور اور نڈھال دکھائی دیتے تھے بہت ہی پیارے لگتے تھے اور اُن کے لیے دل سے دعا نکلتی تھی۔اُس پر میری توجہ حضرت محمد مصطفی مے کے ایک ارشاد کی طرف گئی اور زیادہ بہتر معنوں میں آپ کا یہ ارشاد سمجھ میں آیا۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو روزے دار کے منہ کی بد بو پیاری لگتی ہے۔( بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر : ۱۷۷۱) جب اس پر گہرائی سے میں نے غور کیا تو اللہ کی محبت سے دل بالکل مغلوب ہو گیا۔کیسی پیاری بات ہے کہ خدا اپنے بندے پر ایسی محبت اور احسان کی نظر کرتا ہے کہ اپنی خاطر تکلیف اُٹھانے والے کے منہ کی بدبو بھی پیاری لگتی ہے۔آنحضرت ﷺ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا ہے کہ خدا کی محبت کے بڑے گر سکھائے۔ایسے رنگ میں اُس کا ذکر فرمایا کہ جب بھی ہم آنحضرت ﷺ کے ارشادات پر غور کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا عشق دل میں اس طرح بھڑک اُٹھتا ہے جس طرح دودھ پیتے بچے کی بھوک چمک اُٹھتی ہے اپنی ماں کو دیکھ کر اور وہ بلبلاتا ہے اور چیختا ہے اُس کو دودھ کی طلب کے لیے۔یہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ ہی کا احسان ہے کہ آپ نے سچے عرفان کے راستے دکھائے ، اللہ تعالیٰ کے عشق کی ایسی ایسی باتیں کیں جو سادہ سادہ چھوٹی چھوٹی سمجھ آنے والی باتیں ہیں کوئی مشکل اور دقیق نکتے نہیں ہیں مگر ایسی باتیں ہیں جو فطرت میں ڈوبتی ہیں اور فطرت کی گہرائی سے خدا کی محبت کو نکالتی ہیں اور اُچھالتی ہیں اور دل اُس محبت سے اُچھلنے لگتا ہے۔پس اللہ