خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 330
خطبات طاہر جلدے 330 خطبه جمعه ۱۳ مئی ۱۹۸۸ء نے یہ منظور کی کہ جمعہ کو رخصت ہوا کرے گی۔تو اللہ تعالی خودکفیل بن جاتا ہے ایسے لوگوں کا لیکن اس نقطہ نگاہ سے میں اس وقت یہ ذکر نہیں کر رہا۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جماعت احمد یہ اللہ کے فضل سے ایک ایسی جماعت ہے جس کو جب بھی نیکی کی طرف بلایا گیا ہے اس نے احسن کی تلاش کی ہے اور بہترین نمونے دکھانے کی کوشش کی ہے۔ان میں کمزور بھی ہیں جو نسبتا ادنی پر بھی راضی ہوئے لیکن نیکی کی اپیل کے جواب میں خاموشی اور بے پروائی کا نمونہ جماعت نہیں دکھاتی۔ابھی حال ہی میں اس رمضان کے شروع میں میں نے تحریک کی تھی کہ مغربی دنیا میں بدنصیبی سے روزوں کی طرف رحجان کم ہے اور احمدی بچوں میں تو آہستہ آہستہ یہ غفلت زیادہ بڑھتی جارہی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ روزہ ہمارے لیے ضروری نہیں۔اگر عمر کے لحاظ سے ضروری نہ بھی ہو تو اگر اس عمر میں روزے نہ رکھنے شروع کرے انسان تو پھر بعد میں تو پھر اُس کی عادت ہی نہیں پڑتی۔چنانچہ اس مضمون پر میں نے سمجھا کر بات کی اور میں حیران رہ گیا دیکھ کر کہ میری توقع سے بڑھ کر ہر طرف سے اس آواز پر لبیک ہوئی۔زمین کے کناروں تک جہاں جہاں یہ آواز پہنچی ہے ہر جگہ سے لبیک کی آوازیں آئیں ہیں۔ہر جگہ سے نہایت ہی خوبصورت نمونے دیکھنے میں آئے کہ جو لوگ بالکل روزوں سے غافل تھے انہوں نے فوری طور پر روزوں کی طرف توجہ دی اور انگلستان کی جماعت نے بھی نہایت ہی خوبصورت نمونہ دکھایا۔ایسے نوجوان جو بالکل غافل تھے ان کو پتا ہی نہیں تھا کہ روزہ ہوتا کیا ہے۔بعض اُن میں سے ایسے ہیں جنہوں نے پہلی دفعہ ہی پورا پورا مہینہ روزے رکھے ہیں۔بعض جوسرسری کبھی ایک آدھ رکھ لیا کرتے تھے انہوں نے محنت کی اور سکول کے زمانوں میں بھی اور پڑھائی کے امتحان کے دنوں میں بھی انہوں نے روزے رکھے۔بچیوں نے بھی، بڑوں نے بھی ، چھوٹوں نے بھی اور بعض ملاقات کے وقت مجھے ایسے بھی دوست ملے جنہوں نے بتایا کہ عمر چالیس سے تجاوز کر گئی لیکن ساری عمر میں صرف ایک روزہ رکھا تھا اور بتایا کہ وجہ یہ تھی کہ پیٹ کی کوئی تکلیف تھی اور ڈاکٹر بھی کہہ دیا کرتے تھے کہ ٹھیک ہے تمہیں تکلیف ہے اور ہمیں بھی وہم تھا کہ جب تکلیف ہے خدا نے اجازت دی ہے تو روزہ رکھنا ہی نہیں ہے۔اب جب سنا کہ کوشش کرنی چاہئے خدا کی راہ میں تکلیف اُٹھا کر بھی روزہ رکھنا چاہئے سوائے اس کے کہ بیماری اتنی بڑھ جائے کہ مانع ہو جائے اور وہ تکلیف مالا يطاق جو طاقت سے بڑھ کر تکلیف بن جائے۔تو کہتے ہیں میں نے شروع کر