خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 314
خطبات طاہر جلدے 314 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء فرماتے تھے۔عام طور پر جو مفسرین اس بحث میں الجھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ جب عرض کرتے ہیں۔خدا کے حضور استغفر الله ربی من کل ذنب تو اس کا مطلب کیا یہ بنتا ہے کہ آپ سے گناہ سرزد ہوئے تھے اور چونکہ غیروں نے بڑے شدید حملے اس راہ سے کیے ہیں۔اس لیے اس راہ کو بند کرنے کے لیے وہ ذنب کی تعریف کو نرم کرتے کرتے اتنا نرم کر دیتے ہیں کہ گویا ذنب کا مطلب صرف بشری کمزوریاں ہیں۔ایک پہلو سے یہ بات درست ہے کہ ذنب کا مطلب بشری کمزوریاں بھی ہیں۔اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جب اس مضمون کو آنحضرت ﷺ پر چسپاں فرمایا تو ان معنوں میں کیا کہ ذنب کی تعریف ہر شخص کے مطابق بدلتی چلی جائے گی۔ایک عام انسان جو گناہ گار الله ہے جب وہ استغفر اللہ ربی من کل ذنب کہتا ہے تو اس کے ذنب میں بہت سے گناہ کبیرہ بھی داخل ہو جاتے ہیں اور شدید قسم کی لغزشیں بھی داخل ہو جاتی ہیں۔اُس کی لغزشیں بھی شدید ہوتی ہیں۔جو انبیاء کے نکتہ نگاہ سے گناہ کبیرہ شمار کی جا سکتی ہیں۔مگر ذنب جب حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات پر اطلاق پاتا ہے۔یعنی ان معنوں میں کہ آپ خدا سے عرض کر رہے ہیں کہ میں اپنے سب گنا ہوں سے بخشش چاہتا ہوں تو اُس سے مراد یہ ہے کہ وہ لطیف بشری کمزوریاں جو اتنی لطیف ہیں کہ انسان کی نگاہ اُن کو پکڑ نہیں سکتی۔مگر ایک کامل نبی جب خدا کے حضور کھڑا ہوتا ہے تو خدا کی نگاہ کے سامنے اپنے آپ کو نگا محسوس کرتا ہے اور اُس وقت اُس روشنی میں اُس کو اپنی بعض کمزوریاں دکھائی دیتی ہیں۔یعنی ذنب کا یہ مطلب آنحضرت ﷺ کے استغفار پر صادق آتا ہے لیکن ایک دوسرا مضمون جو حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں کھولا ہے۔اُس کے بعد اس ذنب کی تعریف کو چھیڑنے کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی ہے۔آپ فرماتے ہیں: دوسرا پہلو یہ ہے کہ آئندہ گناہوں کے سر زد ہونے سے حفاظت مانگنا۔استغفار انبیاء بھی کرتے تھے ( ملفوظات جلد ۵ صفحہ نمبر: ۵۰۷) یہ فوراً اس کے ساتھ کہنا یہ بتا رہا ہے کہ جب انبیاء استغفار کرتے تھے تو ان معنوں میں کیا کرتے تھے۔کہ وہ آئندہ ہونے والے گناہوں سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں گناہ کے اثر سے۔جس طرح سردی کے مقابل پر کپڑا اوڑھا جاتا ہے یا گرمی کے مقابل پر کپڑا اوڑھا جاتا ہے یا گندگی کے مقابل پر اپنے جسم کو بچانے کے لیے کپڑا اوڑھا جاتا ہے۔پس استغفار اُس کپڑے کی