خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 306
خطبات طاہر جلدے 306 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء طرف رجوع کرے اور یہ رجوع الہی بندہ نادم تائب کی طرف ایک یا دومرتبہ میں محدود نہیں بلکہ یہ خدائے تعالیٰ کی ذات میں خاصہ دائی ہے اور جب تک کوئی گناہ گار تو بہ کی حالت میں اُس کی طرف رجوع کرتا ہے۔وہ خاصہ اُس کا ضرور اُس پر ظاہر ہوتا رہتا ہے۔پس خدا کا قانون قدرت یہ نہیں کہ جو ٹھو کر کھانے والی طبیعتیں ہیں وہ ٹھو کر نہ کھاویں یا جو لوگ قوائے بہیمیہ یا غضبیہ کے مغلوب ہیں اُن کی فطرت بدل جاوے بلکہ اس کا قانون جو قدیم سے بندھا چلا آتا ہے یہی ہے کہ ناقص لوگ جو بمقتضائے اپنے ذاتی نقصان کے گناہ کریں وہ تو بہ اور استغفار کر کے بخشیں جائیں“۔(براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد اصفحہ : ۱۸۶۔۱۸۷ حاشیہ) یہ مضمون بہت ہی گہرا ہے اور عبارت ایسی ہے کہ جسے اردو کا عام معیار رکھنے والا انسان صحیح طور پر سمجھ نہیں سکتا۔پھر اس سے بعض غلط فہمیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔اسی لیے میں نے گزشتہ خطبے میں کہا تھا کہ میں دوبارہ اس عبارت کی طرف لوٹوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو بیان فرما رہے ہیں۔اُس سے ایک یہ تاثر بھی پیدا ہوسکتا ہے کسی کے ذہن پر کہ آپ کا مطلب یہ ہے کہ گناہ سے مستقل تو به کروانا منشاء الہی نہیں ہے بلکہ چونکہ وہ غفور و رحیم ہے اور بار بار مغفرت سے ظہور فر ما تا ہے۔اس لیے یہ گویا کہ مقدر ہے کہ ہر انسان بار بار گناہ کرتا چلا جائے اور خدا بار بار بخشتا چلا جائے۔یہ ہرگز یہاں مراد نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک خاص مزاج اور طبیعت کے لوگوں کا ذکر فرما رہے ہیں جو ناقص مزاج رکھتے ہیں جو انسانیت کے نسبتا ادنیٰ مقام پر ہوتے ہیں اور اُن کے ساتھ خدا کے معاملے کا ذکر فرما رہے ہیں۔ہر انسان مختلف حالتوں میں پایا جاتا ہے اور ہر انسان ایک حالت میں نہیں رہتا۔اسی طرح مختلف معاشرے ہیں جو رفتہ رفتہ کثیف حالت سے لطیف حالت کی طرف ترقی کر رہے ہوتے ہیں۔کچھ انسان جن کا پس منظر کثیف معاشرے کا پس منظر ہووہ طبعاً بہت ٹھوس بن جاتے ہیں۔ان کے اندر لطافتیں کم ہوتی ہیں اور سختی زیادہ پائی جاتی ہے اور مزاج میں بہیمیت بعض دفعہ پیدا ہو جاتی ہے۔اُن کی پرورش بچپن میں ایسی ہوتی ہے کہ بعض مغلوب الغضب ہو جاتے ہیں۔بعض بہیمانہ مزاج رکھتے ہیں اور ظلم اور تعدی کی طرف ان کا میلان رہتا ہے۔