خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 305
خطبات طاہر جلدے 305 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء تھیں۔اس لیے اس مضمون سے بے خبر اپنی جہالت میں آنحضرت ﷺ پر حملے کرتے رہے۔یہی بدنصیبی آج کے دور کے اُن علماء کی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے مقام سے غافل ہیں کیونکہ خود اپنے وجود سے غافل ہیں۔اپنے نفس سے اُن کو شناسائی نہیں ہے۔اس لیے اُن کے لیے کوئی بھی صبح نہیں۔وہ ایک مسلسل رات میں زندگی گزارنے والے لوگ ہیں اور اسی جہالت کے نتیجے میں وہ خدا کے پاک بندوں پر حملے کرتے ہیں۔اس سلسلے میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے بعض اقتباسات کی روشنی میں آپ کو استغفار کے بعض نئے مضمون سمجھانے کی کوشش کی ہے۔جو اقتباس میں نے شروع کیا تھا۔اُس کے متعلق میں نے گزارش کی تھی کہ میں انشاء اللہ دوبارہ اس مسئلے پر کچھ روشنی ڈالوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا جو میں اقتباس پڑھ رہا تھا۔وہ اس عبارت سے شروع ہوا تھا کہ کوئی چور یا خونی ، چوری یا خون کرتا ہے تو خدا اُس کے دل میں اُسی وقت ڈال دیتا ہے کہ تو نے یہ کام بُرا کیا اچھا نہیں کیا۔لیکن وہ ایسے القا کی ، کچھ پرواہ نہیں رکھتا کیونکہ اُس کا نور قلب نہایت ضعیف ہوتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔جس سے کوئی بد عملی ہو جائے یا اپنے نفس پر کسی نوع کا ظلم کرے اور پھر پشیمان ہو کر خدا سے معافی چاہے تو وہ خدا کو غفور و رحیم پائے گا۔اس لطیف اور پر حکمت عبارت کا مطلب یہ ہے کہ جیسے لغزش اور گناہ نفوس نا قصہ کا خاصہ ہے جو ان سے سرزد ہوتا ہے اُس کے مقابل پر خدا کا ازلی اور ابدی خاصہ مغفرت و رحم ہے اور اپنی ذات میں وہ غفور و رحیم ہے۔یعنی اُس کی مغفرت سرسری اور اتفاقی نہیں بلکہ اُس کی ذات قدیم کی صفت قدیم ہے جس کو وہ دوست رکھتا ہے اور جو ہر قابل پر اس کا فیضان چاہتا ہے۔یعنی جب کبھی کوئی بشر بر وقت صد در لغزش و گناه به ندامت و تو به خدا کی طرف رجوع کرے تو وہ خدا کے نزدیک اس قابل ہو جاتا ہے کہ رحمت اور مغفرت کے ساتھ خدا اُس کی