خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 304
خطبات طاہر جلدے 304 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء طرح میرا خیال رکھے، اس طرح اپنی پاکیزگی کا خیال رکھے، اپنے جسم کو ڈھانپے، اپنی نظر کو سنبھالے، اپنی زبان کو ادب سکھائے۔یہ ساری تو قعات میں اپنی بیوی سے رکھتا ہوں لیکن بیوی کے مقابلے میں اس کے حقوق کے معاملے میں میں ان چیزوں سے خود عاری ہوں تو وہی ننگے پن کا احساس اس کے دل میں بھی پیدا ہو نا شروع ہو جاتا ہے۔وہ محسوس کرتا ہے کہ میں اپنے بچوں کو نصیحت کرتا ہوں اور چونکہ یہ نصیحت صدق پر مبنی ہوتی ہے اس لیے اس صدق کے نتیجے میں پھر وہ صبحیں پیدا ہوتی ہیں جو نفس کے ساتھ شناسائی عطا کرتی ہیں۔چنانچہ وہ غور کرتا ہے کہ میں نے جب اپنے بچوں کو نصیحت کی تو میں اس نصیحت میں جھوٹا نہیں تھا۔واقعہ میرا دل چاہتا تھا کہ ان بچوں کی اصلاح ہو اور یہ اعلیٰ مراتب اور اعلیٰ مقامات تک پہنچیں۔لیکن اس کے باوجود میں خودان مراتب سے عاری ہوں ناصرف عاری ہوں بلکہ اُن کی طرف سفر کرنے کے لیے چند قدم بھی میں نے نہیں اُٹھائے۔اس احساس کی بیداری سے پھر وہی ننگا پن کا احساس زیادہ کھلتا چلا جاتا ہے۔چنانچہ رات نے جو بدن ڈھانپ رکھا تھا صبح نے ان کمزوریوں سے پردے اتار دیئے اور صبح کے نتیجے میں یعنی ان اسحار کے نتیجے میں جن کا قرآن کریم یہاں ذکر فرمارہا ہے۔اُن کو اپنی کمز دوریاں خوب کھل کر نظر آنا شروع ہوگئیں۔پھر وہ استغفار کا مضمون شروع ہوا، پھر وہ ستاری کا مضمون شروع ہوا۔جس نے ان سگے بدنوں کو ڈھانپ دیا۔یہ وہ مضمون ہے جو ساری زندگی ہر انسان کے ساتھ چلتا ہے۔انبیاء کے ساتھ بھی چلتا ہے جو معصوم ہیں کیونکہ انبیاء میھم السلام کا معیار اپنے نفس کو جانچنے کا بہت زیادہ بلند ہوتا ہے اور بہت زیادہ لطیف ہوتا ہے۔اس لیے وہ جس استغفار میں داخل ہوتے ہیں۔عام بندے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے اور جیسا کہ میں نے پچھلی دفعہ بھی ذکر کیا تھا جہالت میں بعض لوگ ان کو مذاق اور طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں یہ نبی بنے ہوئے ہیں جو خو د استغفار کر رہے ہیں ، آپ گناہ گار ہیں ، دوسروں کو کیا نصیحت کریں گے۔چنانچہ عیسائی جہلا خصوصاً گزشتہ صدیوں میں آنحضرت ﷺ کے متعلق بڑی کثرت کے ساتھ زبان طعن و تشنیع دراز کرتے رہے اور بڑے گہرے چر کے حضور اکرم ﷺ سے محبت کرنے والے کے دلوں کو لگاتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی وجہ سے بعض دفعہ ان لوگوں پر سختی کی ہے کیونکہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ آنحضرت ﷺ پر اس طرح بے باکانہ حملے کیے جائیں مگر خود چونکہ گناہ گار دل رکھتے تھے اور خود چونکہ ان پر استغفار کی سجیں طلوع نہیں ہوئی