خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 303 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 303

خطبات طاہر جلدے 303 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء پس میں صرف صدق کی بات کر رہا ہوں ہو سکتا ہے۔ایک مشاہدہ کرنے والا پوری سچائی کے ساتھ ایک نصیحت کرنے والے کو اس حال میں دیکھتا ہو کہ وہ نصیحت تو کرتا ہے لیکن خود اُس پر اس نصیحت کا اثر اس رنگ میں دکھائی نہیں دیتا جیسا وہ دوسرے سے توقع رکھتا ہے۔وہ نصیحت کرنے والا بھی دوسروں کے حالات پر نظر رکھ کر اُن کو نصیحت کر رہا ہے اور جہاں تک اُس کے مشاہدے کا تعلق ہے وہ بھی سچا ہے۔اس لیے ان دونوں کا جہاں تک آپس میں ایک دوسرے کو دیکھنے کا تعلق ہے اس کے نتیجے میں استغفار پیدا نہیں ہو سکتا۔لیکن وہ نصیحت کرنے والا جب اپنے دل میں ڈوب کر وہ مشاہدہ اپنی ذات میں شروع کرتا ہے جو غیر نے اُس کی ذات میں مشاہدہ کیا تو پھر یہاں سے استغفار کا مضمون شروع ہو جاتا ہے۔وہ نصیحت کرنے والا دیکھتا ہے کہ خود مجھ میں کیا کمزوریاں ہیں اور کتنی خامیاں ہیں اور کتنے خلاء ہیں۔اس سفر میں اُس کو کئی صبحیں عطا ہوتی ہیں اور بالآخر وہ ایک ایسے مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ مجھ پر اُس سوئی کی مثال صادق آتی ہے جو دوسروں کے لیے تو کپڑا بن کر اُن کے تن ڈھانپنے کا کام کرتی ہے، انتظام کرتی ہے۔اُس کے لیے محنت کرتی ہے لیکن میں خود نگا ہوں۔یہی وہ مضمون ہے جس کو قرآن کریم نے شروع میں ہی حضرت آدم کے واقعہ کے اوپر چسپاں کر کے بیان فرمایا۔فرمایا آدم اُن عارف باللہ لوگوں میں سے تھا جو اپنی ذات میں اپنی کمزوریوں کا مشاہدہ کرتا تھا اور اُس نے خود اپنی کمزوریوں پر جب اطلاع پائی تو اپنے رب کے حضور اپنے آپ کو ننگا پایا تب اوراق الجنۃ سے اُس نے اپنی کمزوریوں کو ڈھانپنے کی کوشش کی یہ اوراق الجنۃ ہیں جو استغفار ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے پھر اُس کی مدد فرمائی اور اس کو وہ کلمات عطا فرمائے۔جن کے نتیجے میں واقعہ اس کی رسائی ان پتوں تک ہوئی جو اس کا بدن ڈھانپنے کی تو فیق رکھتے تھے، طاقت رکھتے تھے۔پس اس مضمون کا جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یعنی اس قسم کے صدق کا استغفار سے بہت ہی گہرا تعلق ہے اور اسی کے نتیجے میں سچا استغفار عطا ہوتا ہے اور یہی قرآن کریم کی تعلیم ہے جس سے قرآن کریم کی تعلیم کا آغاز ہوا ہے پھر وہ شخص جو دوسرے نصیحت کرنے والے کا مشاہدہ کر رہا ہے۔جب وہ اپنے حال پر نظر کرتا ہے تو اچانک اس کے اوپر بھی یہ نئی صبح میں طلوع ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔وہ محسوس کرتا ہے اپنے بڑھتے ہوئے شعور کے ساتھ کہ میں اپنے گھر میں اپنی بیوی کو نصیحت کرتا ہوں۔اس سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ اس قسم کا معاملہ کرے، اس طرح میرے حقوق ادا کرے، اس