خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 302
خطبات طاہر جلدے 302 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء تو یہ خدا کے بندے عجیب ہیں۔جن کا صبح کو بھی آرام کا تصور استغفار ہی ہے اور گویا استغفار میں ان کو آرام جان ملتا ہے اور امر واقعہ یہی ہے کہ ایک مومن کو استغفار میں اُسی طرح آرام و جان ملتا ہے جس طرح ایک تھکے ہوئے بدن کو نیند میں آرام ملتا ہے۔اس مضمون کو مزید بیان کرنے کے لیے میں اُسی آیت کی طرف دوبارہ متوجہ ہوتا ہوں جس کی تفسیر میں میں چند مضمون آپ کے سامنے پیش کر رہا تھا۔میں یہ بیان کر رہا تھا کہ طبیعت کا صدق اور فطرت کی سچائی ہے جو درحقیقت نئی صبح پیدا کرنے کا موجب بنتی ہے اور اُسی کے نتیجے میں باقی صفات پر گہرا اثر پڑتا ہے یعنی صبر کے ساتھ بھی صدق کا تعلق ہے، قنوت کے ساتھ بھی صدق کا تعلق ہے، انفاق فی سبیل اللہ کے ساتھ بھی صدق کا تعلق ہے اور ان سب کے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعلق کے نتیجے میں مومن کے لیے ہمیشہ استغفار کی نئی مجیں پھوٹتی رہتی ہیں۔صدق کے مضمون سے متعلق بہت تفصیلی گفتگو ہو سکتی ہے لیکن وقت کی رعایت سے میں ایک دو مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ یہاں قرآن کریم صدق کن معنوں میں استعمال کر رہا ہے۔اس مضمون پر آپ جتنا غور کرتے چلے جائیں خود آپ پر بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے صدق کے اطلاق کے نئے نئے مواقع روشن ہوتے چلے جائیں گے اور آپ آسانی کے ساتھ ایک ایسے سفر میں داخل ہو جائیں گے جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے شعور کی نئی صبحیں آپ کو عطا ہوتی چلی جائیں گی۔ایک انسان کا صدق اُس کو دوسرے کو دیکھنے اور سمجھنے کی بھی توفیق بخشتا ہے اور اُس آئینے میں پھر اپنی ذات کا مشاہدہ کرنے کی بھی توفیق بخشتا ہے۔جہاں تک صدق کے نتیجے میں دوسرے کی ذات کے مشاہدے کا تعلق ہے یہ فی ذاتہ کافی نہیں اور اس کے نتیجے میں استغفار پیدا نہیں ہوتا لیکن جب دوسرے کے آئینے میں انسان خود اپنے وجود کو دیکھنے لگتا ہے تب اُس کے نتیجے میں استغفار کا مضمون پیدا ہوتا ہے۔مثلاً آپ ایک مقرر کو دیکھیں جو آپ کو نصیحت کرتا ہے آپ اُس کے احوال سے خوب باخبر ہیں۔آپ جانتے ہیں کہ وہ دوسروں کو نصیحت کر رہا ہے لیکن جتنی نصیحت دوسروں کو کر رہا ہے خود اُس پر وہ مضمون صادق نہیں آتا۔اگر آپ کا یہ مشاہدہ سچائی پر بنی ہے تو کوئی گناہ نہیں۔اگر یہ دشمنی اور حسد پر مبنی ہے تو پھر صدق کا مضمون آپ پر کسی طرح بھی صادق نہیں آ سکتا۔