خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 297 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 297

خطبات طاہر جلدے 297 خطبه جمعه ۲۹ را پریل ۱۹۸۸ء سرسری اور اتفاقی نہیں بلکہ وہ اس کی ذات قدیم کی صفت قدیم ہے جس کو وہ دوست رکھتا ہے اور جو ہر قابل پر اُس کا فیضان چاہتا ہے یعنی جب کبھی کوئی بشر بر وقت صد در لغزش و گناه به ندامت تو به خدا کی طرف رجوع کرے تو وہ خدا کے نزدیک اس قابل ہو جاتا ہے کہ رحمت اور مغفرت کے ساتھ خدا اس کی طرف رجوع کرے اور یہ رجوع الہی بندہ نادم اور تائب کی طرح ایک یا دو مرتبہ میں محدود نہیں بلکہ یہ خدائے تعالیٰ کی ذات میں خاصہ دائمی ہے اور جب تک کوئی گناہ گار تو بہ کی حالت میں اُس کی طرف رجوع کرتا ہے وہ خاصہ اس کا ضرور اس پر ظاہر ہوتا رہتا ہے پس خدا کا قانون قدرت یہ نہیں ہے کہ جو ٹھو کر کھانے والی طبیعتیں ہیں وہ ٹھو کر نہ کھاویں یا جولوگ قوائے بہیمیہ یا غصبیہ کے مغلوب ہیں اُن کی فطرت بدل جاوے بلکہ اس کا قانون جو قدیم سے بندھا چلا آتا ہے یہی ہے کہ ناقص لوگ جو بمقتضائے اپنے ذاتی نقصان کے گناہ کریں وہ تو بہ اور استغفار کر کے بخشیں جائیں (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد نمبر اصفحہ ۱۸۶۔۱۸۷ حاشیہ ) یہ مضمون چونکہ بعض پہلوؤں سے دقیق ہے اور مزید تفصیل چاہتا ہے اس لیے انشاء اللہ آئندہ خطبے میں اسی مضمون کو یہاں سے اُٹھاتے ہوئے اس سلسلے میں چند مزید باتیں آپ کے سامنے رکھوں گا۔مقصد میرا یہ ہے کہ استغفار کے مضمون کو آپ اچھی طرح سمجھ جائیں کیونکہ جوں جوں آپ استغفار کے مضمون سے واقف ہوتے چلے جائیں گے آپ اُس سے استفادہ کے زیادہ اہل ہوتے چلے جائیں گے ورنہ خالی استغفر اللہ کہنے سے ویسے تو خدا ما لک ہے بخش سکتا ہے جب چاہے جس طرح چاہے بخش دے لیکن ویسا استفادہ نہیں ہو سکتا جیسا کسی چیز کی حقیقت کو سمجھنے سے استفادہ ہوسکتا ہے۔مشرق اور مغرب میں جو عظیم الشان ترقیات کا فرق ہے یہاں تک کے مشرق کے بعض ممالک کو Third World کہا جاتا ہے وہ یہی فرق ہے کہ یہاں مغرب کے لوگوں نے قانون قدرت کو سمجھنے کی کوشش کی اور خدا تعالیٰ کی مخلوقات کی کنہ کو دریافت کرنے کی جدوجہد کی اور ڈوبتے چلے گئے مضامین کے اندر اور اُن اجسام کی جو زندگی بھی نہیں رکھتے تھے اُن کی بھی عادات دریافت کرنے لگے