خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 275
خطبات طاہر جلدے 275 خطبه جمعه ۲۲ را بریل ۱۹۸۸ء کی سطح ہو۔یہ بے مقصد جو پیش نظر رہنا چاہئے اور میں امید رکھتا ہوں کہ اس طرح روزانہ کچھ نہ کچھ وقت دیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی اگلی نسلوں کی تربیت کے لئے بہت بہتر انتظام ہو جائے گا۔دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ پچھلے دنوں پاکستان میں ایک بہت ہی ہولناک حادثہ پیش آیا اوجڑی کیمپ کا واقعہ۔آپ نے سنا ہوگا اس حادثہ میں اس قدر خوفناک تباہی ہوئی ۱۰ را پریل کی بات ہے صبح پونے دس کے قریب اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ایک فوجی اسلحہ کا کیمپ ہے جسے اوجڑی کیمپ کہا جاتا ہے۔وہاں کئی قسم کے اسلحہ، راکٹس کے ذخیرے تھے۔یہ تو اب نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں شرارت تھی یا حادثہ تھا مگر جو بھی ہوا اس کے نتیجے میں اچانک خود پاکستان کے راہنماؤں کے بیان کے مطابق اس علاقے میں قیامت صغریٰ ٹوٹ پڑی۔ایسی حیرت انگیز طریق پر بمباری شروع ہوئی ہے کہ بعض لوگ سمجھے کہ کسی بڑی حکومت نے اچانک حملہ کر دیا ہے۔ہزار ہا کی تعداد میں راکٹ بر سے ہیں۔جو اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ ان راکٹس کا اکثر حصہ پھٹا نہیں اور بہت تھوڑا حصہ پھٹا ہے۔واقعہ اگر وہ پھٹ جاتے تو راولپنڈی اور اسلام آباد کا نشان صفحہ ہستی سے مٹ جاتا کیونکہ ایک لاکھ سے زائد راکٹ ہیں جو زمین سے اٹھے اور آسمان سے برسے اور ان کا ایک بہت ہی تھوڑا حصہ پھٹا ہے اور اس کے نتیجے میں بھی اتنی ہلاکت ہوئی ہے، اتنی تباہی مچی ہے کہ جن لوگوں نے وہ دیکھے ہیں اور مجھے خطوط لکھے ہیں وہ کہتے ہیں سارا وجود کانپ جاتا ہے دیکھ کر کہ یہ کیا واقعہ گزر گیا ہے۔گھروں کی لائنوں کی لائنیں محلوں کے محلے بعض جگہ منہدم ہو گئے ہیں جس طرح بڑی ہولناک جنگ کے بعد بعض شہروں کا منظر ہوتا ہے۔جہاں تک مرنے والوں کی تعداد کا تعلق ہے حکومت کے اندازے تو سو کے لگ بھگ مرنے والے اور تقریباً آٹھ سو زخمی بتاتے ہیں لیکن بعض پاکستانی رہنماؤں کے جو بیانات اخبار میں آرہے ہیں اور انفرادی طور پر جو خبریں مل رہی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ بہت ہی زیادہ ہلاکت خیزی ہے یعنی اس حادثے سے بہت زیادہ ہلاکت ہوئی ہے۔ایک اندازے کے مطابق تقریباً چار یا پانچ سو کے درمیان فوجی اور پانچ اور چھ ہزار کے درمیان Civilians اس میں ہلاک ہو گئے ہیں اور جو زخمی ہوئے ہیں ان کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔بعض اندازے اس میں کچھ کمی کرتے ہیں لیکن جو آزاد اندازے ہیں ان میں سے اکثر