خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 267 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 267

خطبات طاہر جلدے 267 خطبه جمعه ۲۲ را پریل ۱۹۸۸ء تو رمضان کے ساتھ تہجد کا بہت ہی گہرا تعلق ہے۔وہ روزے جو تہجد سے خالی ہیں وہ بالکل ادھورے اور بے معنی سے روزے ہیں۔اس لئے بچوں کو خصوصیت کے ساتھ روزے کی تلقین کرنی چاہئے۔جس ماحول کا میں نے ذکر کیا ہے قادیان یار بوہ میں اس ماحول میں تو عموماً یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا خصوصاً قادیان میں کہ کوئی بچہ اٹھ کر آنکھیں ملتا ہوا کھانے کی میز پر آجائے۔اس کے لئے لازمی تھا کہ وہ ضرور پہلے نفل پڑھے اور لازمی ان معنوں میں کہ سب یہی کرتے تھے اس نے یہی دیکھا تھا اور وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔بعض دفعہ لیٹ آنکھ کھلتی ہے بچے کی یعنی دیر ہو جاتی ہے زیادہ تو کھانا بھی جلدی میں کھاتا ہے لیکن قادیان کے بچے تہجد بھی پھر جلدی میں پڑھتے تھے یہ نہیں کرتے تھے کہ اب وقت نہیں رہا صرف کھانا کھا ئیں بلکہ اگر کھانے کے لئے تھوڑا وقت ہے تو تہجد کے لئے بھی تھوڑا وقت تقسیم کر لیا کرتے تھے۔دو نفل جس کو عام طور پر ٹکریں مارنا کہتے ہیں اس طرح کے نفل پڑھے اور اسی طرح کا کھانا کھایا پھر دو لقھے جلدی جلدی کھا لیا لیکن انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ روحانی غذا کی طرف بھی توجہ دیں اور جسمانی غذا کی طرف بھی توجہ دیں اور یہ انصاف ان کے اندر پایا جاتا تھا ان کو بچپن سے ماؤں نے دودھ میں پلایا ہوا تھا۔اس لئے وہ نسلیں جو قادیان میں پل کے بڑی ہوئیں ان میں تہجد اور رمضان کا چولی دامن کا ساتھ سمجھا جاتا تھا۔کوئی وہم بھی نہیں کر سکتا تھا کہ بغیر تہجد پڑھے بھی روزہ ہوسکتا ہے۔ہاں کچھ ان میں سے ایسے بھی تھے جو تہجد کے وقت اٹھ نہیں سکتے تھے اور کچھ ایسے تھے جو صرف تہجد نہیں پڑھنا چاہتے تھے بلکہ قرآن کریم کی تلاوت بھی سننا چاہتے تھے۔چنانچہ ایسے احباب کے لئے یا مردوزن کے لئے تراویح کا انتظام ہوا کرتا تھا۔تراویح کے متعلق یہ روایت آتی ہے کہ تراویح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں جاری ہوئی اور تراویح کے متعلق بعض دفعہ بعد میں اعتراضات بھی ہوئے خصوصاً وہ لوگ جو خارجی مزاج رکھتے تھے یا شیعوں میں سے بعض جو حضرت عمر کو پسند نہیں کرتے تھے انہوں نے طعن زنی کے طور پر عمری سنت کہنا شروع کر دیا حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ تراویح کی بنیاد خود حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے زمانے میں پڑ چکی تھی۔چنانچہ آپ نے باجماعت رمضان شریف میں نوافل پڑھانے شروع کئے صرف چند دن ایسا کیا اور اس کے بعد اس خیال سے کہ امت میں یہ فرض نہ سمجھ لیا جائے اس کو ترک فرما دیا۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ چوتھے یا پانچویں روز جب صحابہ پھر ا کٹھے ہوئے تو