خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 262 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 262

خطبات طاہر جلدے دنیا کےحسنات عطا کرے۔262 خطبه جمعه ۱۵ رابریل ۱۹۸۸ء اب چند جنازوں کا اعلان ہے جن کی نماز جنازہ غائب جمعہ کے بعد پڑھی جائے گی۔سب سے پہلے اور سب سے اہم حضرت السید منیر الحصنی صاحب کا ذکر خیر ضروری ہے۔یہ دمشق کے رہنے والے اور شام کی جماعت کے امیر تھے۔بہت لمبے عرصے سے امیر چلے آرہے تھے۔اخلاص اور وفا میں ایک بہت ہی اعلیٰ درجہ کا مقام رکھتے تھے اور مجھے اس بارہ میں شبہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو خدا تعالیٰ نے الہاماً فرمایا یدعون لك ابدال الشام وعبادالـلـه مـن العرب - ( تذکرہ صفحہ ۱۰۰) تو ان ابدال الشام اور عباد الله من العرب میں حضرت السيد منیر احصنی صاحب بھی شامل ہیں۔ان کے نام کا تلفظ مختلف لوگوں سے مختلف سنا ہے۔کوئی حصنی کہتا ہے، کوئی حصنی کہتا ہے کوئی بھنی۔اس لئے جو بھی ہے السید المنير المحصنی یا لکھنی جو بھی کہلاتے ہیں۔میں خود بھی ان سے مل چکا ہوں، کئی بار ملنے کا موقع ملا۔بہت ہی عاشق تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اور سلسلہ کے۔تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر فائز اور بہت ہی فدائی ہمنکسر المزاج بزرگ تھے۔آپ کو معلوم ہے کہ دمشق میں بعض وجوہات سے جماعت پر بڑی دیر سے سختیاں ہیں اور بڑی پابندیاں ہیں اس کے باوجود انہوں نے قطعاً ان باتوں کی پرواہ نہیں کی اور جماعت کے شیرازہ کو منتشر نہیں ہونے دیا اور اللہ کے فضل کے ساتھ ان کی ذات کے ارد گر دہی جماعت مضبوطی سے قائم رہی اور ان کی وفات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام فرما دیا اور ایسے بندے خدا کے پیدا ہو گئے جن کے ذریعے جماعت کمزور ہونے کے اور بھی زیادہ پہلے سے بڑھ گئی ہے، مضبوط ہوگئی ہے اور ترقی کی راہوں پر زیادہ تیزی سے چلنا شروع کر چکی ہے۔اس بارے میں منیر الحصنی صاحب نے مجھے اپنی ایک رویا بھی لکھی تھی جس سے یہی اندازہ ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو وصال سے پہلے ایسا وقت دکھا دے گا کہ ان کو تسلی ہو کہ جماعت سنبھالی گئی ہے اور ان کو اس بات کی کوئی فکر نہیں۔چنانچہ مجھے خوشی ہے اس پہلو سے ان کو پوری طرح اطمینان ہو چکا تھا۔وہ جگہ جہاں دیر سے تبلیغ رکی ہوئی تھی اب پچھلے دو تین سال میں اس کثرت سے دوستوں کی توجہ پیدا ہوئی ہے، تبلیغ کا جوش پیدا ہوا کہ شدید مشکلات اور خطرات کے باوجود بھی جماعت نے تیزی سے پھیلنا شروع کیا اور وہ سارے نوجوان اور مخلصین منیر احصنی صاحب سے آکے ملتے بھی تھے بلکہ ان کی تصدیق سے ان کی بیعتیں آیا کرتی تھیں۔اس