خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 257
خطبات طاہر جلدے تاکہ وہ ہدایت پائیں۔257 خطبه جمعه ۵ ارایریل ۱۹۸۸ء اس کا ایک حل تو یہ ہے کہ جو ایمان کے متعلق علماء بہت سی بحثیں اٹھا چکے ہیں اور بالعموم بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ غالباً اجماع ہے تمام علماء کا کہ ایمان ایک مقام پر کھڑا نہیں رہتا۔اجماع تو نہیں ہے بعض علماء نے مجھے یاد آیا ہے اختلاف بھی کیا ہے اس بات پر۔وہ سمجھتے ہیں کہ ایمان ہے یا نہیں ہے بس یہ دوہی چیزیں ہیں اور گھٹا بڑھتا نہیں ہے۔بعض علماء کہتے ہیں کہ ایمان کی بے شمار منازل ہیں اور وہ کم سے شروع ہوتا ہے زیادہ تک پہنچتا ہے۔تو وَلْيُؤْمِنُوا جو ہے اس کا مطلب یہاں یہی لیا جا سکتا ہے کہ پھر وہ ان باتوں کے نتیجہ میں مجھ پر کامل ایمان لے آئیں گے اور ان کو ایمان کی حقیقت معلوم ہو جائے گی ، ایمان کی شیرینی اور اس کی حلاوت محسوس ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔بن دیکھے کس طرح کسی مد رخ پہ آئے دل کیسے کوئی خیالی صنم سے لگائے دل دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی حسن و جمال یار کے آثار ہی سہی ( در تمین صفحه ۱۱۱) حالانکہ اس کے بغیر بھی ایمان کی ایک منزل تو انسان کو نصیب ہو ہی جایا کرتی ہے۔بہت سے ایسے بھی خدا پر ایمان لانے والے ہیں جو کسی مذہب کے قائل نہیں لیکن خدا کی ہستی کے متعلق وہ ایمان رکھتے ہیں۔اس لئے ایمان کے تو بے شمار مراحل اور بے شمار در جے ہیں۔یہاں جس ایمان کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ ہر رمضان کے بعد جو ایک نیا ایمان نصیب ہوتا ہے اس کا ذکر فرمایا گیا ہے اور ہر ایمان کے نتیجہ میں ایک نئی ہدایت کا رستہ کھلتا ہے۔جب بھی آپ خدا تعالیٰ پر ایمان لانے میں ترقی کرتے ہیں اور ایک نیا مضمون اس پر یقین کا آپ کے اوپر کھولا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ہی آپ کے لئے ترقی کی اور راہیں بھی کشادہ ہوتی ہیں اور نئی راہیں بھی آپ پر کھولی جاتی ہیں۔چنانچہ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ سے یہاں یہی مراد ہے۔پس جو بھی آپ معنی کریں، عبد سے مراد عام بندے لیں یا عبادت کرنے والے بندے