خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 249 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 249

خطبات طاہر جلدے 249 خطبه جمعه ۵ اراپریل ۱۹۸۸ء ایک یہ مراد ہوسکتی ہے کہ ایک ہی مہینہ ہے صرف جس میں جبرائیل نے مکمل پورا قرآن نازل کیا ہواور اس لحاظ سے کوئی شک کی بات نہیں۔اور کسی مہینے کے متعلق کوئی روایت نہیں ملتی کے حضرت جبرائیل تشریف لائے ہوں اور مکمل قرآن کریم نازل کر دیا ہو اور رمضان میں اس کی دہرائی بھی ہوتی تھی یعنچستہ جستہ، جوں جوں آگے بڑھتا رہا مضمون اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم اتنا حصہ نازل ہوتا رہا اور اس لحاظ سے بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس میں قرآن کریم نازل ہوالیکن ایک مہینہ تو یقیناً ایسا آیا ہے جس میں پورا قرآن کریم دوبارہ نازل ہوا ہے حضور اکرم یہ پر۔پس اس کی اہمیت اس لحاظ سے بہت ہی بڑھ جاتی ہے اور رمضان کے مہینے کی اہمیت بیان کرنے کی خاطر ہی یہ مضمون بیان فرمایا گیا ہے۔چنانچہ فرمایا أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيْنَتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ تو قرآن کریم بنی نوع انسان کے لئے ہدایت ہے اس لئے رمضان کا ہدایت سے بڑا گہرا تعلق ہے یعنی قرآن نازل ہوا اس لئے رمضان کو اہمیت ہے ،اس کی تشریح فرمائی جا رہی ہے۔کیوں رمضان کو اہمیت ہے؟ کیونکہ قرآن کریم اس مہینے میں نازل ہوا اور قرآن کریم کا ہدایت سے بہت گہرا تعلق ہے اور ہدایت بھی ایسی کہ بنْتِ مِنَ الْهُدَی عام ہدایت ہی نہیں بلکہ بہت ہی روشن اور کھلی کھلی ہدایت کے نشان لے کر آیا ہے۔وَالْفُرْقَانِ اور تمیز کرنے والی آیات پیش کرتا ہے جو حق اور باطل میں تمیز کرنے والی ہوں ، کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرنے والی باتیں ہوں۔تو قرآن کریم کی جو تعریف بیان فرمائی جارہی ہے یہ تعریف رمضان کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔رمضان کی تعریف سے جب مضمون شروع ہوا اور یہاں تک پہنچا کہ قرآن کریم اس میں نازل ہوا اور قرآن یہ ہے تو مراد یہ ہے کہ یہ ساری باتیں تمہیں رمضان میں میسر آئیں گی اور ان برکتوں کا رمضان سے بہت گہرا تعلق ہے۔چنانچہ اس کے بعد فرمایا فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ پس نتیجہ ہے اس کا۔یہ ساری باتیں پیش نظر رکھ کر ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمه تم میں سے جو کوئی بھی اس مہینے کو دیکھے وہ روزہ رکھے۔شَهِدَ مِنْكُمُ میں مہینہ دیکھنے سے کیا مراد ہے؟ آج کل یہ بحث اٹھ رہی ہے کہ چاند اگر کسی اور ملک میں بھی نظر آئے تو کیا اس گواہی کے پیش نظر اس ملک میں جہاں ہم موجود ہیں روزہ رکھ سکتے ہیں اور ابھی حال ہی میں ایک فتویٰ شائع ہوا ہے جس سے پتا چلتا ہے یہی علماء کا کہ دنیا میں کسی