خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 244 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 244

خطبات طاہر جلدے 244 خطبه جمعه ۸ / اپریل ۱۹۸۸ء کرنے کے لئے اور زیادہ گند بولتے ہیں اور زیادہ بغض کا اظہار کرتے ہیں اور پھر جہالت کی حد یہ ہے کہ پتا ہی نہیں کہ دنیا میں اچھی چیزیں ہیں کیا اور کس بات پر رشک کیا جاتا ہے۔ربوہ سے جو بھی رپورٹ ملی ہے چند دن پہلے آنحضرت ﷺ کی سیرت کے نام پر جلسہ سے اور اس میں جو ان کا تصور ہے بڑائی اور عظمت کا وہ آپ اندازہ کریں کہ کیا ہے۔کس طرح یہ جماعت احمد یہ کو جلانا چاہتے ہیں، جماعت احمدیہ کو حسد کی آگ میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔انہوں کی حلوہ کی دیکھیں وہاں چڑھائی ہوئی تھیں اور بار بار یہ نظم پڑھی جاتی تھی سٹیج سے کہ حلوے مانڈے چاڑاں گے اور مرزائیاں نوں ساڑاں گے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔تمہارے حلووں سے جماعت احمدیہ کے جلنے کا کیا تعلق ہے۔ساری دنیا میں اللہ تعالیٰ عظمتیں عطا فرما رہا ہے وسعتیں عطا فرما رہا ہے۔غیروں کی نظر میں جماعت احمدیہ کا مرتبہ اور مقام بڑھتا چلا جارہا ہے۔خدا کے فرشتے تائیدیں کر رہے ہیں نئے نئے ممالک میں جماعت احمد یہ جھنڈے گاڑ رہی ہے۔ایسے ایسے حیرت انگیز انقلاب برپا ہو رہے ہیں کہ پرسوں کی بات ہے افریقہ کے ایک ملک کی بہت ہی بڑی شخصیت کا مجھے فون ملا۔جو اس ملک کی بہت بڑی اور معروف شخصیتوں میں سے ایک شخصیت ہے۔مجھے تعجب ہوا کہ کس طرح آپ نے فون کیا۔انہوں نے کہا میں نے فون اس لئے کیا ہے کہ آپ کے دورے کا اتنا Impact ہوا ہے ہمارے ملک پر کہ آج میں نے سوچا کہ میں ضرور مبارک باد کا فون کروں۔جس جماعت کو اللہ تعالیٰ ایسی عظمتیں عطا کر رہا ہے، نئے رستے کھول رہا ہے ترقیات کے ان کو سی ایک نا قابل برداشت عذاب ہوگا، ان کے لئے ایک تکلیف ہوگی کہ ربوہ نے کچھ مولویوں نے حلوہ کی دیگیں چڑھائی ہیں۔انا للہ۔یہ ان کی دماغی حالت ، یہ ان کی پہنچ ، یہ ان کے تصور کی چھلانگ۔انہوں نے کیا دنیا میں کرنا ہے۔جو کچھ کرنا ہے آپ نے کرنا ہے۔تھوڑے بھی ہیں لیکن وہ تھوڑے ہیں جن کے اندر قو میں بنے کی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں۔آپ ان لوگوں کے غلام اور ان لوگوں کی صلاحیتیں رکھنے والے، ورثہ میں پانے والے ہیں جن میں ایک ایک کو خدا نے امت قرار دیا ہے۔اس لئے ہر گز بالکل اپنا دل میلا نہ کریں۔خدا نے ترقیات کے لئے ، خدا نے عظمتوں کے لئے ،خدا نے فتح و ظفر کے نشانوں کے لئے آپ کو پیدا کیا ہے۔ہاں اپنی صلاحیتوں کو زندہ رکھیں جو دنیا کو فیض پہنچانے کی صلاحیتیں ہیں۔اسی میں آپ کی زندگی، اسی میں آپ کی بقا ، اسی میں آپ کے غلبہ کی ضمانتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔