خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 243
خطبات طاہر جلدے 243 خطبه جمعه ۸ / اپریل ۱۹۸۸ء ہے ، وہ جذبہ ہے۔وہ کہتا ہے کہ میرا خیال تھا سو سال گزر چکے ہیں اور سوسال کے اندر اس جماعت میں غفلت اور کمزوری اور بے دلی کے آثار پیدا ہو چکے ہوں گے۔سوسال لمبی مخالفت برداشت کرنا اور پھر Minority اقلیت رہنا اور بے طاقت رہنا۔یہ ایسی چیزیں ہیں جس کے نتیجہ میں وہ سمجھتے تھے، انہوں نے اس کا اظہار کیا کہ اب تک میں سمجھتا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جولٹریچر سے جماعت کا جوش و خروش اور امام سے محبت اور دینی کاموں میں شغف اس سے جو تاثر ملتا ہے یہ انہوں نے بیان کیا کہ میں سمجھتا تھا کہ اب بہت ہی اس میں کمی آچکی ہو گی۔اس نے کہا پہلا شاک (Shock) تو مجھے لنڈن جا کے پہنچا، حیرت انگیز سر پرائز (Surprise ) ملی کہ وہاں میں نے جس احمدی سے بات کی اس میں سب سے نمایاں چیز اپنے امام سے محبت تھی۔حیرت انگیز چیز تھی کہ اس دنیا میں کوئی شخص بغیر رشتے کے کوئی کسی شخص کے ساتھ ایسی محبت رکھ سکتا ہے اور ایسی عقیدت رکھتا ہے پتا لگا وہاں بھی یہی حال۔کہتے ہیں پھر میں پاکستان گیا اور وہاں جا کر بھی میں نے دیکھا کہ یہ جماعت تو بالکل اسی طرح زندہ ہے جس طرح سو سال پہلے تھی۔کوئی اس میں موت کے آثار نہیں اور یہی وجہ ہے کہ جماعت کا ہر فرد اس یقین سے بھرا ہوا ہے کہ جو چاہے ہو جائے آخری فتح یقیناً ہماری ہے۔اس نے یہ تو نہیں کہا اپنی طرف سے کہ ہوگی لیکن اس طرح ملا کر دونوں باتوں کو پیش کیا ہے جس سے ہر معقول آدمی اندازہ کر سکتا ہے کہ ضرور انہی کی فتح ہوگی جو سو سال میں مرنے کی بجائے اور بھی زیادہ جو شیلے ہو گئے ہیں اور انتہائی مصائب کے وقت ان کے اندر خدمت کا جذبہ پہلے سے بھی بڑھ گیا ہے۔ایسی جماعت کو دنیا میں کون کہہ سکتا ہے کہ وہ نا کام ہوگی۔چنانچہ بہت ہی اچھا ان کا دلچسپ انٹرویو ہے لیکن اس کے علاوہ اپنے خط میں بھی جو انہوں نے اظہار کیا ہے بہت ہی دل پر اثر کرنے والا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ وہاں میرے لئے مشکل ہو جاتا تھا جماعت کے لوگوں کومل کر اپنے جذبات پر کنٹرول کرنا کیونکہ بہت ہی حیرت انگیز اس جماعت میں اخلاص اور اپنے عقیدے اور اپنے مقصد سے پیار ہے۔تو اللہ تعالیٰ اس پیار کو ہمیشہ زندہ رکھے اور آگے بڑھاتا رہے۔یہی آپ کی زندگی کی علامت ہے۔ان لوگوں میں جو باہر آپ نے شور سنے ہیں کچھ بھی نہیں۔دن بدن مردہ ہوتے جا رہے ہیں اور ان میں یہ جو طاقت تھی پہلے نفرتیں پھیلانے کی وہ بھی کمزور پڑتی جا رہی ہے۔زیادہ گند بولتے ہیں اور کم لوگ ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔اس لئے اس کمی کو پورا