خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 238
خطبات طاہر جلدے 238 خطبه جمعه ۱/۸اپریل ۱۹۸۸ء بڑھتی چلی جارہی ہے۔وہی جرمنی جہاں آنے والے اس سے پہلے اپنے چندوں میں، سارے تو نہیں مگر ایک حصہ بالکل غافل تھا اور ان کے پاکستان سے آنے کے نتیجہ میں پاکستان کی جماعت کے چندوں پر کوئی فرق نہیں پڑا یہ آپ اندازہ کر لیجئے۔لیکن جرمنی آکران نو جوانوں نے جو خدمت دین کا نمونہ دکھایا ہے وہ حیرت انگیر ہے۔تقریباً پاکستان کا آدھا بجٹ جرمنی کی جماعت پورا کر رہی ہے اور ہر تحریک میں پیش پیش ہے۔بہت ہی غریبانہ حالت بھی ہو قربانی کا جذبہ بہت بڑھا ہے اور اتنے ہر وقت مستعد رہتے ہیں لبیک کہنے پر کہ بعض دفعہ مجھے جبر رو کنا پڑتا ہے کہ نہیں اتنی قربانی نہیں میں نے کرنے دینی کیونکہ خدا نے تمہارے اپنے حقوق رکھے ہوئے ہیں۔تم محنتیں کر کے کچھ کر رہے ہو اپنے لئے ، اپنے اہل وعیال کے لئے ، اپنے غریب رشتہ داروں کو بھی تم نے بھیجا ہوگا پیچھے۔تو روکنا پڑتا ہے لیکن یہ باتیں اس سے پہلے ان لوگوں میں نمایاں نہیں تھیں۔ایک دبی ہوئی صلاحیت کے طور پر موجود تھی ضرور ایک ایسے خزانے کے طور پر موجود تھی جو مدفون تھا مگر خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے ان خزانوں کو ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے اور اس نئے دور میں غیر معمولی طور پر ان غریب مہاجرین کو خدمت دین کی توفیق مل رہی ہے۔پھر تبلیغ کا ان کو اتنا شوق ہے۔سب کو تو نہیں لیکن جن کو بھی شوق ہے وہ لاعلمی کے باوجود کے اتنا اچھا کام کر رہے ہیں تبلیغ کا کہ جن لوگوں کو وہ جلسوں پر لے کر آئے ہوئے تھے اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ ان سے کتنا متاثر ہیں۔بہت سے لوگوں نے مجھ سے ذکر کیا ہے بعض لوگ بالکل بے چارے، علم کے لحاظ ان پڑھ تو نہیں کہنا چاہئے مگر کافی علم نہیں رکھتے ، زبان کے لحاظ سے بھی کمزور لیکن عربوں کو تبلیغ کر رہے ہیں، ترکیوں کو تبلیغ کر رہے ہیں، جرمنوں کو تبلیغ کر رہے ہیں ، یوگوسلاو مینز کو تبلیغ کر رہے ہیں۔ان کے اردگرد ایک دوستوں کا جھرمٹ ہے جو ان کے ساتھ بہت پیار کرتا ہے کیونکہ ان کے اندر بعض صلاحیتیں ہیں جس کی وجہ سے وہ دوستی کرتے اور پھر اپنے اندر ایک جذب پیدا کر دیتے ہیں ان کے لئے۔بعض لوگوں میں یہ جذب خدا تعالیٰ نے ودیعت کیا ہوا ہوتا ہے۔بعض اس کو مزید جلا بخشتے ہیں اور اس کے بغیر تبلیغ ہو نہیں سکتی۔چنانچہ ان نو جوانوں کو جرمنی میں میں نے دیکھا ہے۔ان کے اندر عاجزی ہے، انکسار ہے، پیار اور محبت سے بات کرتے ہیں۔جانتے ہوئے که مخاطب بہت قابل اور بہت بڑا ہے ان سے ، بڑی جرات کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم تمہیں کچھ دے