خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 236 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 236

خطبات طاہر جلدے 236 خطبه جمعه ۸ / اپریل ۱۹۸۸ء لئے درمیان میں بعض مفسد داخل ہو جاتے ہیں۔ان کا کام ہی یہی ہے کہ آواز کو آگے نہ پہنچنے دیا جائے۔اس ذریعے سے وہ جسم کو خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سر کی برکتوں سے محروم کر دیتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ ہر نبی کی دفعہ یہی ہوا۔خود آنحضرت ماہ کے وقت یہ اعلان کیا کرتے تھے کہ جب آپ تلاوت شروع کریں، قرآن پڑھیں تو شور مچا دیا کرو اور کوشش کرو کہ یہ آواز دوسروں تک نہ پہنچے۔سچائی کی آواز کا خوف جھوٹ کی علامت ہے اور کبھی بھی آپ دنیا میں یہ نہیں دیکھیں گے کہ سچائی نے شور مچا کر جھوٹ کی آواز دبانے کی کوشش کی ہو۔ایک بھی واقعہ ساری کائنات میں کبھی نہیں ہوا ہمیشہ جھوٹ ڈرتا ہے، خوف کھاتا ہے، بیچ میں روکیں حائل کرتا ہے اور کسی حد تک بلکہ شروع میں بہت بڑی حد تک اس کو اتنی کامیابی ہو جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ امام کی آواز وہ لوگوں تک نہیں پہنچنے دیتے اور اس کی وجہ سے ان کے اوپر جتنی مصیبتیں آتی ہیں ان سب کے ذمہ دار قرار دئے جاتے ہیں۔بہت ہی بڑی بدبختی ہے کہ انسان کسی کی فلاح کی راہ میں کسی کی بہبود کے رستے میں کھڑا ہو جائے اور جو اس کا حق ہے بقاء کا وہ اس تک پہنچے نہ دے۔آج کل جس طرح افریقہ کے بعض ممالک میں جہاں کثرت سے لوگ بھو کے مررہے ہیں بعض لوگ بین الاقوامی مدد کے اور ان کے درمیان میں حائل ہورہے ہیں اور یونائٹیڈ نیشنز کی طرف سے جو خوراک پہنچائی جا رہی ہے وہ اسے وہاں پہنچ نہیں دیتے۔یہ تو جسمانی خوراک ہے لیکن جب روحانی خوراک کے رستے میں اس طرح لوگ روکیں بنتے ہیں تو بہت بڑی تباہی آتی ہے اور اس کے نتیجہ میں پھر جسمانی تکلیفیں بھی بڑھتی ہیں، دنیاوی عذاب بھی ایسی قوموں پر آنے لگتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ امتیاز بخشا ہے بجائے اس کہ آپ تخریب کی طرف مائل ہوں آپ کو خدا نے تعمیری طاقتیں عطا فرمائیں ہیں۔اس پہلو سے ساری دنیا کے وقار عمل کی جب تصویریں یعنی سب تو نہیں مل سکتیں لیکن نمونہ کی چند تصویر میں جب ایک خوبصورت کتابی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کی جائیں گی تو اس وقت دنیا کو دلائل کی روسے نہیں بلکہ عملی نمونہ کے طور پر معلوم ہو گا کہ جماعت کی روح ہے کیا۔کوئی جماعت جو کسی ظالم نے خدا پر دروغ کرنے والے نے بنائی ہو اس کے اندر یہ تعمیری صلاحیتیں پیدا ہی نہیں ہو سکتیں۔سب دنیا تخریبی کاموں میں مصروف ہو رہی ہو اور بڑھ رہی ہو اور ایک جماعت دن بدن تعمیر کی طرف مائل ہو رہی ہو۔انگلستان میں آپ دیکھ لیں چند سال پہلے تک وقار عمل اگر ہوتا بھی ہوگا تو بہت معمولی ایک آدھ صفائی کہیں کر دی لیکن چند سال