خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 235
خطبات طاہر جلدے 235 خطبه جمعه ۸ / اپریل ۱۹۸۸ء ہوتا جا رہا ہے۔ان کی ساری توجہ تخریب کی طرف ہوگئی ہے۔اب آپ نے باہر جو چند آدمی دیکھتے ہیں ، ان کے حلیہ بھی آپ نے دیکھا ہے۔کس شکل وصورت کس قماش کے لوگ تھے اور وہ کھڑے ہوئے سوائے اس کے کہ گندے نعرے لگائیں جماعت کے خلاف، کوئی کام نہیں۔جمعہ بھی اپنا چھوڑ کر بیچارے آئے ہوئے ہیں۔مصیبت میں باہر کھڑے اور یہی ان کی خدمت دین ہے اور اس کے مقابل پر میں دیکھ رہا تھا جماعت کے سارے احمدی دوست جو آتے رہے ہیں بڑے وقار کے ساتھ ایک ذرہ بھی انہوں نے کسی قسم کی کوئی لغزش نہیں تھی ان کے اندر، کوئی غصہ کا رد عمل نہیں تھا اور لاحول پڑھتے ہوں گے دل میں مگر اونچی آواز سے نہیں اور اسی طرح لاحول پڑھتے اور استغفار کرتے ہوئے بڑے باوقار قدموں سے مسجد میں داخل ہو رہے تھے، ایک ذرہ بھی پرواہ نہیں کہ باہر یہ کیا ہو رہا ہے۔یہ ہے فرق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کا ایک نشان ہے۔اس نشان کو ہمیں ہمیشہ زندہ رکھنا پڑے گا۔دن بدن وہ لوگ جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منکر ہیں وہ تخریب کاری کی طرف مائل ہوتے چلے جارہے ہیں اور بعض جگہ اتنا میلان یہ بڑھ گیا ہے کہ اسلام کو تخریب کاری کا نشان قرار دیا جا رہا ہے دنیا میں۔اتنی بدبختی اور بدنصیبی ہے کہ وہ دین جن کا نام تھا امن دینا اور ساری دنیا کے امن کی خاطر خدا نے قائم فرمایا تھا اس دین کو آج تخریب کاری کا نشان بنایا جارہا ہے اور یہ سزا ہے اس ایمان کے انکار کی جس کو خدا نے خود مقرر فرمایا تھا۔ایمان کی حیثیت سر کی ہوا کرتی ہے۔اگر سر کٹ جائے یا سر سے جسم علیحدہ ہو جائے اور اسے قبول نہ کرے تو کچھ دیر جان رہتی ہے، جسم پھڑکتا بھی ہے لیکن اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی اور اگر وہ اعصابی رستے کسی طرح خراب ہو جائیں جن کے ذریعے سر جسم پر حکومت کرتا ہے اس کی نگرانی کرتا ہے اور پیغام پہنچنے بند ہو جائیں تو پھر زندہ بھی بڑی دیر تک رہتا ہے لیکن اس کی اپنی حرکتیں بالکل پاگلوں والی اور بے معنی ہو جاتیں ہیں اور اس کے اندر کوئی نظم و ضبط دکھائی نہیں دیتا۔ایسے ہی اوقات میں جب خدا تعالیٰ نے کسی مذہب کو زندہ رکھنا ہو تو نئے سر عطا کیا کرتا ہے اور اسی کا نام الہی امامت ہے۔جو سر سے قطع تعلق کر لے یا جس تک پیغام پہنچنے کے ذریعے مسدود ہو جائیں اور جس طرح کہ یہ لوگ آج کل کر رہے ہیں یہی وہ طریق ہے جس کے ذریعے مسدود کئے جاتے ہیں کہ شور مچاتے ہیں کہ کسی طرح جماعت احمدیہ کا پیغام دوسروں تک نہ پہنچے اور اس کے ذریعے سے جسم کو محروم کرنے کے