خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 223
خطبات طاہر جلدے 223 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۸ء یعنی آنے والوں کا قصور تو ہے ہی کچھ لمبے گہرے اسلام کے خلاف وہ تعصبات بھی ذمہ دار ہیں جوان قوموں میں با قاعدہ منظم طور پر پیدا کئے گئے ہیں یعنی عیسائی راہنماؤں نے سب سے زیادہ نفرت کا نشانہ اگر کسی مذہب کو بنایا ہے تو اسلام کو بنایا ہے۔سب سے زیادہ نفرت کی تعلیم اگر کسی مذہب کے خلاف دی ہے تو اسلام کے خلاف دی ہے۔اس لئے آپ تعجب کی نظر سے اس بات کو دیکھیں گے کہ جب ہندوستان سے آنے والا کوئی جھوٹ یا فساد اختیار کرتا ہے تو ہندوازم کے خلاف کوئی تحریک نہیں چلے گی۔ہندی ازم کو بدنام کرنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی جاتی ، جب افریقن کوئی ایسی جگہ کا آتا ہے جہاں پیکینزم یعنی لامذہبیت پائی جاتی ہے یا جاہلیت پرستی ہے ، تواہم پرستی ہے تو سارے یورپ میں کہیں بھی کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے کہ جس کے نتیجے میں جہالت کے خلاف تعصبات کو یعنی نفرتوں کو ہوا دی جائے ، بت پرستی کے خلاف نفرتوں کو ہوا دی جائے جب بدھسٹ قومیں آکر یہاں جھوٹ بولتی ہیں اور فساد ہو جاتے ہیں اور سوسائٹی کو گندا کرتی ہیں۔اس طرح مختلف ممالک سے مثلاً کوریا سے یا ہند چینی کے علاقوں سے بسا اوقات کثرت سے بدھ بھی آئے اور دھو کے دے کر یہاں داخل ہوئے بالکل جھوٹے کیس بنا کر انہوں نے اجتماعی طور پر بھی داخل ہونے کی کوشش کی کہیں لیکن کہیں بھی آپ بدھ ازم کے خلاف کوئی آواز نہیں سنیں گے۔غرضیکہ دنیا کے کسی مذہب کو آپ دیکھ لیں اس مذہب کے لوگ جب مغربی قوموں میں کسی پہلو سے بود و باش اختیار کرتے ہیں تو اُن کے بداخلاق اُن کے مذہب کی طرف منسوب نہیں کئے جاتے لیکن اسلام ایک ایسا مظلوم مذہب ہے کہ اگر آپ اسلام سے وابستہ ہیں تو لاز ما اسلام کو نفرتوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔چنانچہ ہر جگہ صرف کسی ملک کا نام نہیں سنتے بلکہ اس کے ساتھ اسلام کا نام بھی سنتے ہیں اگر آنے والا اسلامی ممالک سے تعلق رکھتا ہو۔تو اس پہلو سے پاکستانی احمدیوں کی ذمہ داری اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔کئی قسم کے نقصانات وہ اپنی قومیت کو بھی پہنچاتے ہیں، اپنے مذہب کو بھی پہنچاتے ہیں اور ان مقاصد کی راہ میں حائل ہو جاتے ہیں جن کو حاصل کرنے کے لیے اُن کو پیدا کیا گیا ہے، ان کو کھڑا کیا گیا ہے۔اس لئے چھوٹی چھوٹی بظاہر عام روز مرہ کی معاشرتی برائیاں آپ میں پائی جاتی ہیں۔یہ وہم نہ کریں کہ یہ آپ کے انفرادی معاملات ہیں، یہ ہرگز انفرادی معاملات نہیں ہیں۔یہ قومی معاملات ہیں جنہوں نے احمدیت کی نشو ونما پر ان ملکوں میں گہرے اثر چھوڑنے ہیں اور چھوڑ رہے ہیں۔