خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 222 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 222

خطبات طاہر جلدے 222 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۸ء بدی میں، انہوں نے دوڑ لگا دی اور جب اپنی برائیوں کے ساتھ ان نئی برائیوں کو اختیار کیا تو مغربی معاشرے کی برائیوں کے مقابل پر بہت زیادہ آگے بڑھ گئے۔ان میں کچھ ایسی برائیاں ہیں جو وہ ساتھ لے کر ویسے ہی آئے تھے کچھ نیکیاں تھیں جو کھوگئی تھیں نیکیوں کے پردے پھٹ گئے اور برائیاں اپنی جگہ قائم رہیں تو اس کے نتیجے میں جو چیز نمودار ہوئی ہے وہ بہت ہی خطرناک اور بدزیب ہے۔چنانچہ دیکھنے والے احمدی بھی اور دوسرے بھی اس کے نتیجے میں صرف اسلام سے ہی نہیں بلکہ پاکستان سے بھی شدید نفرت کرنے لگتے ہیں۔جب سے میں یہاں آیا ہوں بعض مہمانوں سے بعض معزز مہمانوں سے میری ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے ایسے بھی تھے جن کا کثرت کے ساتھ مشرق سے آنے والے لوگوں سے رابطہ ہوتا ہے اور انہوں نے مجھے خود کھل کے یہ کہا کہ ہمیں تعجب ہوتا ہے کہ کس قسم کے لوگ وہاں پیدا ہو رہے ہیں۔بنگال سے آنے والے ہوں یا ہندوستان سے آنے والے ہوں یا پاکستان سے آنے والے ہوں ان علاقوں سے جو بھی آتا ہے وہ یقیناً جھوٹا ہوتا ہے اور یقیناً دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے۔کچھ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ کس بات پر اعتبار کریں، کس پر نہ کریں۔دھوکا ، فریب دہی ، جھوٹ ، خیالی باتیں بنانا، من گھڑت قصے پیش کرنا ، کہتا ہے جب مجھے انہوں نے بتایا یوں لگتا ہے جیسے ان قوموں کی فطرت ثانیہ ہے۔ہمیں سمجھائیں کہ ہم کریں کیا، کس طرح اندھیرے اور روشنی میں تمیز کریں کہ جبکہ ایسا ملا دیا گیا ہے کہ جیسے تانا بانا سفید اور کالے دھاگے کا ہو پتا نہ لگے کہ کہاں کالا ہے اور کہاں سفید ہے دیکھنے میں وہ ایک گرے سا دکھائی دینے لگے۔یہ وہ تاثرات ہیں جو بعض باشعور لوگوں کے تاثرات ہیں۔بہت پڑھے لکھے اور بعض علوم اور فنون کے ماہر ہیں لیکن جو عام طبقہ ہے اُس کے دل میں نفرتیں جنم لیتی ہیں وہ شدید رد عمل دکھاتا ہے ان قوموں کے خلاف اور رفتہ رفتہ اندر اندر ایسی تحریکات پیدا ہونے لگتی ہیں جن کے نتیجے میں پھر بڑے تصادم پیدا ہوتے ہیں۔بعض ایسے رد عمل پیدا ہوتے ہیں جس سے پھر قوموں کے درمیان نفرتیں اور بڑھنے لگتی ہیں کالوں اور سفیدوں کے درمیان، کالوں اور زردوں کے درمیان ،سفیدوں اور کالوں کے درمیان ہر جگہ سوسائٹی ہر طرف منتشر ہونے لگتی ہے اور پھر ان کی لڑائیاں ، ان کے جھگڑے، ان کے فساد سارے معاشرے کو گندا اور تکلیف دہ بنا دیتے ہیں اور بدنامی نہ صرف دوسرے ملکوں کی بلکہ خاص طور پر اسلام کی بدنامی بہت ہوتی ہے اور اس معاملے میں ہمارا