خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 195
خطبات طاہر جلدے اصلى 195 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۸ء تو عام انسان جس کو سمجھتا ہے کہ اس جانور میں کوئی بھی خوبی نہیں وہ بھی انسان کو حیا کا سبق دینے والا جانور ہے۔تو اس قسم کے تعلقات میں جب بے حیائی بڑھی تو بڑھتے بڑھتے ایک ایسے مقام تک پہنچ گئی جہاں قانون قدرت نے ان قوموں کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو چودہ سو سال پہلے یہ خبر دی گئی کہ وہ تو میں جو جنسی تعلقات میں بے راہرو ہو جاتی ہیں اور پھر بے حیا ہو جاتی ہیں اور بے حیائی میں ایسے مقام کو پہنچ جاتی ہیں کہ وہ خود اپنی بے حیائی کو منظر عام پر لا کر فخر محسوس کرتی ہیں اور دنیا کو دکھاتی ہیں کہ ہم کتنے بے حیا ہیں۔ایسی قوموں کے لئے خدا نے ایک سزا مقرر فرمائی ہے کہ ان کے گلے کے بعض غدود پھولیں گے ، گلٹیاں بنیں گی اور ان کے نتیجے میں ایسی بیماری پیدا ہوگی جسے طاعون سے مشابہ قرار دیا جا سکتا ہے یا ایک قسم کا طاعون قرار دیا جا سکتا ہے اور وہ کثرت کے ساتھ بیماری ظاہر ہوگی اور ایسی بے حیا قوموں کو سزا دے گی۔اس زمانے میں کسی ایسی بیماری کا کوئی علم نہیں تھا۔وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس قسم کی حالت قوموں پر طاری ہو سکتی ہے اور پھر اس کی سزا کے طور پر خدا یہ حربہ استعمال فرمائے گا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے اس بیماری کے قرب کی خبر دی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ آئندہ ایک اور قسم کا طاعون بھی ظاہر ہونے والا ہے اور وہ طاعون اکثر عیسائی ممالک میں پھیلے گا اور بڑی وضاحت کے ساتھ جو نقشہ کھینچا ہے آپ نے وہ ایڈز بیماری کا نقشہ ہے۔تو اب یہ جو حالت ہے یہ جانورں کی حالت تک پہنچ کر اس سے آگے بڑھنے والا مقام ہے۔یہی میں آپ کو مثال دے رہا ہوں کہ ہر بدی ایک مقام پر کھڑی نہیں ہوا کرتی نہ ہر نیکی ایک مقام پر کھڑی ہوا کرتی ہے۔ایک لامتناہی سلسلہ ہے اور ایک دائرہ ہے جس میں وہ سفر کرتی رہتی ہے اور دائروں میں کوئی آخری مقام نہیں ہوا کرتا۔جہاں بھی انجام ہوگا وہی بد انجام ہے اور وہی آخری انجام ہے۔تو جن قوموں کے سفر بد اخلاقیوں سے شروع ہوتے ہیں وہ بداخلاقیوں کے انتہا تک پہنچ کر رہتے ہیں پھر اور زیادہ قدم آگے بڑھتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا وہ بہیمیت کے مقام تک پہنچ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر ان کی مثال سؤروں اور بندروں جیسی ہو جاتی ہے۔پس چھوٹے چھوٹے بدخلقی کے افعال اگر سر زد ہوں تو انہیں معمولی جرم نہیں سمجھنا چاہئے اور