خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 193 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 193

خطبات طاہر جلدے 193 خطبه جمعه ۲۵ مارچ ۱۹۸۸ء اور خدا کا ایک بھی نام ایسا نہیں جو بد خلقی کی تعلیم دینے والا ہو۔ پس جس جس جگہ بھی انسان حسن خلق سے الگ ہوتا ہے کسی قسم کی بد خلقی اپنے اندر پیدا کرتا ہے اسے یہ حقیقت خوب سمجھ لینی چاہئے کہ اس حصے میں اس نے خود خدا سے اپنا تعلق توڑ لیا۔ اسی لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقویٰ کے بعد اخلاق حسنہ پر بے انتہا زور دیا اور بار بار جماعت کو نصیحت فرمائی که با خدا انسان بننے سے پہلے با اخلاق انسان بننا ضروری ہے۔ چنانچہ حضرت اقدس رسول اکرم ﷺ کے معجزات میں ایک بہت ہی عظیم معجزہ آپ نے یہ بیان فرمایا کہ جانوروں کو انسان بنایا، انسان کو با اخلاق انسان بنایا اور با اخلاق انسان کو با خدا انسان بنا دیا۔ بنایا، بنایا پس وہ لوگ جس بد خلقی میں بہت ہی زیادہ آگے بڑھ جاتے ہیں ان کو بہائم قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہیں جانوروں سے مشابہ ہیں بَلْ هُمْ أَضَلُّ (الاعراف: ۱۸۰) بلکہ وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جہاں یہ فرمایا کہ جانوروں کو پہلے انسان بنایا اس سے مراد یہی ہے کہ عرب میں بلکہ دنیا بھر میں اس وقت بد خلقی کا ایسا دور دورہ تھا، ایسی حکومت قائم تھی کہ بظاہر انسان نظر آنے والے وجود بھی انسان نہیں رہے تھے بلکہ انسان کے مقام سے گر کر بہیمیت کے مقام میں داخل ہو چکے تھے۔ ایسے وقت میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ان کو انسان بنایا۔ صلى الله ہر خلق کے متعلق اگر آپ غور کریں تو کسی خلق کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا کوئی آخری کنارہ ہے۔ اسی طرح بدیوں کے متعلق بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کا ایک آخری کنارہ ہے۔ بدیاں شروع ہوتی ہیں ہلکی حالت میں اور بسا اوقات انسان ان بدیوں کے باوجود بھی انسان کہلانے کا مستحق رہتا ہے۔ پھر وہ بڑھتی رہتی ہیں ان میں شرارت کا عنصر زیادہ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے فساد کا عنصر زیادہ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور پھر ہر بدی بڑھتے بڑھتے کسی ایک جانور کی بدی کے مشابہ ہو جاتی ہے۔ اس مضمون پر آپ غور کریں تو آج دنیا میں جتنی بدیاں رائج ہیں ان سب کا رخ بہیمیت کی طرف نظر آتا ہے اور بعض ملکوں میں بہیمیت کے مقام تک پہنچ چکی ہیں۔ اب انسان کو خدا تعالیٰ نے محبت کرنے والا وجود بنایا ہے۔ انسان کو خدا تعالیٰ نے زوجیت کے ساتھ منسلک ہونے کی تعلیم دی ہے اس کی فطرت میں اس بات کو داخل کیا ہے اور اس کے نتیجے