خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 187 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 187

خطبات طاہر جلدے 187 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۸ء متعلق نام لکھوانے والوں کو علم ہوتا ہے کہ وہ اس سانحہ کے وقت وہاں قریب بھی نہیں تھے وقوعہ کی جگہ سے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں تھا اور ایک آدمی نے اگر ایک آدمی کو مارا ہے تو دس بڑے بڑے مخالف گروہ کے آدمیوں کے نام لکھوائے جاتے ہیں اور بعض دفعہ بعض بالکل معصوم لوگ پھانسی پہ بھی چڑھا دئے جاتے ہیں کیونکہ جھوٹ کے ذریعے، رشوت کے ذریعے اتنا مضبوط کیس تیار کر دیا جاتا ہے کہ بعض دفعہ معصوم آدمی کی طاقت ہی نہیں ہوتی کہ وہ اپنا دفاع کر سکے۔یہ مظالم جس ملک میں بڑھتے چلے جائیں وہاں خدا کا فضل کیسے نازل ہو سکتا ہے؟ دن بدن محرومی ہوتی چلی جارہی ہے۔اس لئے اس بات کو آپ پیش نظر رکھیں کہ اگر یہ مرض ہے جھوٹ کی تو یہاں نہیں رہے گی جہاں سے آپ نے اس کو شروع کیا تھا یہ بڑھتی رہے گی اور بڑھ کر پھر یہ منظر عام پر اچھلے گی پھر نہایت ہی بھیا نک صورتیں اختیار کر جائے گی اور خدا سے آپ کا جو رشتہ ہے وہ پھر اس طرح منقطع ہو جائے گا کیونکہ ظالم کے ساتھ خدا کارشتہ نہیں رہتا کہ اس سے پھر کسی قسم کی توقع رکھنی یا اس کے پیاروں کے ساتھ پیار کا دعویٰ بالکل سراسر جھوٹ بن جاتا ہے۔اب وہ مولوی صاحبان، وہ پیر صاحبان جن کو پتا ہے کہ وہ سراسر جھوٹ بول رہے ہیں ، جن کو پتا ہے کہ وہ آدمی جو مظلوم ہیں جن کے اوپر قاتلانہ حملہ ہوا ان کے متعلق یہ کیس بنانا کہ اس نے قتل کروایا ہے اس سے زیادہ بڑا افترا اور کیا ہوسکتا ہے لیکن پھر بھی وہ پیر ہیں ، پھر بھی وہ مذہبی عالم ہیں۔ان کو یہ کیا حق ہو سکتا ہے کہ وہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی طرف منسوب ہونے کا دعوی کریں کجا یہ کہ آپ کی محبت اور آپ کے عشق میں ہم نے کسی آدمی کو مارا ہے۔جھوٹ اور سچ کا کوئی بھی واسطہ نہیں آپس میں کوئی بھی تعلق نہیں ، ایک جگہ اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے۔اس لئے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی محبت اور عشق کے ساتھ جھوٹ اکٹھا نہیں پنپ سکتا ان کی یہ کیفیت ہو چکی ہے۔احمدیوں نے بھی اگر فوری طور پر اپنی اس حالت کونہ سمجھا، اپنے دلوں کا تجز یہ نہ کیا اور روزمرہ کی زندگی میں جھوٹ سے بچنے کی باقاعدہ کوشش نہ کی مہم بنا کر سوچ کر بالا رادہ اس وقت تک ایسے معاشرے میں رہتے ہوئے ان کی سچائی کی کوئی ضمانت نہیں ہو سکتی۔معاشرے جس میں رفتہ رفتہ کم تعداد کے لوگوں پر غالب آجایا کرتے ہیں۔ان کے مقابلے کے لئے ایک با قاعدہ نیت کر کے جدو جہد کی ضرورت پڑتی ہے ہمنصوبہ بنا کر جدوجہد کی ضرورت پڑتی ہے۔اس لئے ساری جماعت احمد یہ پاکستان کو خصوصیت کے ساتھ ، ساری دنیا کی جماعتوں کو بالعموم لیکن پاکستان کی جماعت کو خصوصیت کے ساتھ جھوٹ کے خلاف منصوبہ بنانا چاہئے اور گھروں سے اس کا آغاز کرنا چاہئے۔ایک دفعہ جب آپ جھوٹ کے عادی ہوں جیسے کہ میں نے بیان کیا یہ ہر قسم کی بدیوں میں مبتلا کرتا چلا جاتا ہے۔پس جھوٹے عمل سے جھوٹ پیدا ہوتا ہے اس دوسرے راز کو بھی آپ خوب اچھی طرح سمجھ لیں کیونکہ ہر