خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 186

خطبات طاہر جلدے 186 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۸ء چنانچہ اکثر صورتوں میں اس قسم کا جھوٹ تو آپ کو اس کثرت سے ملے گا کہ آدمی کی طبیعت منغض ہو جاتی ہے اس کی کثرت دیکھ کر کسی جگہ کوئی آدمی کسی غلط کام میں پکڑا جائے آپ اسے کہیں تم نے یہ کیا کیا۔بلا استثناء تو نہیں میں کہ سکتا لیکن بھاری صورتوں میں اس کا رد عمل یہ ہوگا کہ نہیں نہیں یہ نہیں آپ نہیں سمجھے بات کو میں اس لئے کر رہا تھا، اور اس لئے کر رہا تھا۔حالانکہ وہ خود جانتا ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں میں اس لئے نہیں کر رہا تھا میں اس لئے کر رہا تھا۔چنانچہ یہ جو پہلا ردعمل ہے کہ میں اپنے آپ کو صاف اور پاک کر کے دکھاؤں اس میں نیت بظاہرا اچھی ہے لیکن طریق کار غلط ہے۔انسان دوسرے کے سامنے اچھا بنا چاہتا ہے یہ بنیادی فطرت ہے انسان کی اور اچھا بننے کی خاطر خدا کی نظر میں گندہ بن رہا ہوتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے اس کا تجزیہ یہ فرمایا تم لوگوں سے ڈرتے ہو مجھ سے نہیں ڈرتے ، عجیب قسم کے لوگ ہو۔چنانچہ جھوٹ شرک سے پیدا ہوتا ہے۔اس راز کو آپ اگر سمجھ جائیں تو آپ کو جھوٹ کے خلاف جہاد میں بہت بڑی کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے جھوٹ کو شرک ہی قرار دیا ہے۔جب بھی آپ اپنا دفاع کرتے ہیں اس وقت دو وجود ہیں جو آپ پر نظر رکھ رہے ہیں۔ایک آپ جیسے انسان جو عالم الغیب نہیں ہیں اور ایک عالم الغیب خدا جو آپ پر نظر رکھتا ہے۔آپ ایک کے سامنے اچھا بن رہے ہوتے ہیں دوسرے کے سامنے گندہ بن رہے ہوتے ہیں اور جس کے سامنے آپ گندہ بن رہے ہوتے ہیں وہی ہے اس لائق کے اس کے سامنے اچھا بن کے دکھایا جائے۔چنانچہ اس سے پھر جھوٹ کا آغاز ہوتا ہے اور پھر اگلے جو جھوٹ کے مراحل ہیں وہ اس دبی ہوئی کمزوری کو مزید ظاہر کرتے چلے جاتے ہیں۔فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًاى کی تصویر بنی شروع ہو جاتی ہے کہ چونکہ انہوں نے شروع شروع میں جو بہانے بنائے تھے وہ جھوٹے تھے اور دنیا کی نظر میں وہ جھوٹ نہیں آسکا اس لئے خدا نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان کے دل کے مرض کو اور بڑھنے دے یہاں تک کہ وہ کھل کر سامنے آجائے۔پھر یہی لوگ ہیں جن کا اگلا قدم کھلے جھوٹ کی طرف ہوتا ہے اور ہر جھوٹ میں ایک دفاع ہے اپنی ذات کا۔اس کے نتیجے میں پھر رفتہ رفتہ ساری قوم جھوٹی ہو جاتی ہے۔پھر اپنی ذات کا دفاع نہیں بلکہ دوسرے معصوموں کو پھسانے کے لئے ، ان پر ظلم کی خاطر جھوٹ بولا جاتا ہے جس کو افترا کہتے ہیں اور اس وقت جو قوم کی حالت ہے وہ اس درجہ میں بھی بہت آگے بڑھ چکی ہے۔کوئی آپ مقدمہ دیکھ لیں کوئی آدمی کہیں قتل ہوا ہے اس کے نتیجے میں کھلم کھلا واضح جھوٹ بولتے ہوئے بلا استثناء کہوں تو شاید یہ مبالغہ نہیں ہو گا ایسے لوگوں کے نام لکھوائے جاتے ہیں جن کے