خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 160
خطبات طاہر جلدے 160 خطبہ جمعہ ا ا/ مارچ ۱۹۸۸ء دوسرا پہلو ہے مالی قربانیوں کو سمیٹنا۔اب وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے اور جو منصوبے ہیں ان وہ کے اوپر بڑی تیزی سے خرچ شروع ہو چکا ہے اور جہاں تک صد سالہ جو بلی کے وعدوں کا تعلق ہے و وعدے تو پندرہ سال پہلے سے لئے گئے ہیں اور اس عرصے میں مختلف تحریکات چلتی رہیں جس کے نتیجے میں ہر سال ایک نئی تحریک کو اولیت دی جاتی رہی بعض سالوں میں دو دو، تین تین تحریکیں اوپر تلے ہوئیں۔چنانچہ اس کے نتیجے میں بہت سی جماعتیں ادائیگی میں پیچھے رہ گئیں۔آغاز میں جب وعدے ہوئے تو تیزی کے ساتھ ادا ئیگی کی طرف توجہ ہوئی لیکن اس وقت وعدے کرنے والوں نے آئندہ پندرہ سالوں میں اپنی استطاعت کو دیکھا تھا اور اسی حساب سے انہوں نے ادا ئیگی بھی کی کہ ابھی پندرہ سال باقی ہیں ہم آہستہ آہستہ باقی ادا ئیگی کرتے رہیں گے لیکن ان پندرہ سالوں میں جیسا کہ میں نے بیان کیا اللہ تعالیٰ نے جماعت کے سامنے اور بہت سے ایسے منصو بے رکھے جن میں فوری مالی قربانی کی ضرورت ہوا کرتی تھی۔تو اس پہلو سے بہت سے احباب ادائیگی میں پیچھے رہ گئے اور بعض جماعتوں پرتو اتنا بڑا بوجھ تھا کہ بظاہر یقین نہیں آتا تھا کہ یہ پورا کرسکتی ہیں کیونکہ دیگر مالی قربانیوں میں بھی وہ جماعتیں پیش پیش تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے بہت فضل فرمایا اور حیرت انگیز طور پر گزشتہ دو تین سال میں اور خاص طور پر ۱۹۸۷ء میں جس حیرت انگیز طریق پر جماعت نے مالی قربانی میں حصہ لیا ہے وہ نا قابل یقین دکھائی دیتا ہے۔ان تمام شہری جماعتوں میں میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کراچی کی جماعت کو یہ توفیق عطا فرمائی کہ وہ غیر معمولی اور امتیازی قربانی پیش کرے۔اس جماعت کا چندہ بھی بہت بڑا تھا یعنی وعدہ بھی بہت بڑا تھا اور قابل ادا وعدہ پچھلے سالوں میں اتنا اکٹھا ہو چکا تھا کہ اس کا اکثر حصہ واجب الا دا تھا۔اس لئے وہاں کے جو سیکرٹری تھے صد سالہ جو بلی کے چوہدری رکن الدین صاحب وہ بار بار مجھے دعا کے لئے خط بھی لکھتے رہے اور بار بار بے چینی اور فکر کا اظہار کرتے رہے کہ کیا بنے گا۔ذمہ داری مجھ پر ہے اور اب تین سال ، چار سال باقی رہ گئے ہیں اور اس عرصے میں اتنی بڑی رقوم اکٹھی کرنا جبکہ آپ کی طرف سے دوسری تحریکیں بھی جاری ہیں یہ کیسے ممکن ہو گا لیکن اللہ تعالیٰ محنت کرنے والے اور توکل کرنے والوں کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اور غیر معمولی پھل عطا فرماتا ہے۔چنانچہ سارے دو تین سال کے عرصے میں صرف کراچی کی مثال ہی نہیں اور بھی بہت ساری