خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 147 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 147

خطبات طاہر جلدے 147 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء قصے ہیں لیکن حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے غلاموں میں ایسے عشاق دور اول میں بھی پیدا ہوئے اور دور ثانی میں بھی پیدا ہوئے جن کو کوئی شراب عشق مات نہیں دے سکتی تھیں۔وہ شراب اگر زہر کے پیالوں میں بھی بٹتی تب بھی وہ اسے منہ سے لگانے کے لئے تیار بیٹھے ہوئے تھے اور بڑی ہمت کے ساتھ انہوں نے اس کے مقابلے کئے۔چنانچہ احمدیت میں میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ کسی ساقی کے منہ پر مکر کی صدا آئے اور اس کا جواب لبیک صورت میں نہ پیدا ہو۔میں جانتا ہوں کہ جب بھی یہ آواز اٹھائی جائے گی کثرت سے ساتھ جماعت کی طرف سے اللھم لبیک اللھم لبیک کی آواز میں آئیں گی کیونکہ وہ صداد دینے والے کو نہیں دیکھیں گے وہ یہ دیکھیں گے کہ دراصل یہ آسمان کے خدا کی آواز ہے جو ایک حقیر بندے کے منہ سے جاری ہوئی ہے۔اس لئے یہ خدا کی عاشق جماعت، فدائی جماعت ہو نہیں سکتا کہ اللہ کی طرف سے آواز آئے اور وہ اسے سنے نہ، اس کے مقابل پر اس کے سننے کے بعد اللھم لبیک نہ کہیں۔شاعری میں تو ایسا ممکن ہے لیکن عملاً جماعت کی زندگی میں یہ نہیں ہو سکتا۔میں جانتا ہوں کہ مجھے مکرر یہ صدا دینے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور اسی ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے ساری دنیا میں جو لوگ بھی افریقہ میں احمدیت اور اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہتے ہیں پیش کرنے کی توفیق رکھتے ہیں وہ انشاء اللہ ضرور پیش کریں گے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ دوسرا وہ دور ہے جو کام کو اپنے آخری نقطہ کے مقام تک پہنچا دے گا۔اب اس کے بعد تیسری منزل اور کوئی نہیں یہ دوسری منزل آپ کے سامنے کھڑی ہے جو آخری فتح کی منزل ہے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں اور آپ دیکھ لیجئے کل اسی طرح ہوگا خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ کہ یہ جو دور اب نیا چلنا ہے قربانیوں کا اس کے بعد اب سارا افریقہ حضرت محمدمصطفی ﷺ کی غلامی میں آجائے گا آپ کے قدموں پر نچھاور ہوگا اور افریقہ سے پھر ساری دنیا کو تبلیغ اسلام کے لئے وہ دیوانے نکلیں گے وہ فدائی نکلیں گے جو کبھی باہر سے افریقہ کو جایا کرتے تھے۔عظیم طاقتیں اس قوم میں میں نے دیکھی ہیں۔حیرت انگیز قربانی کی روحیں ان میں پائی جاتی ہیں۔ان کے اندر انکسار ہے ان کے اندر عشق ہے آنحضرت ﷺ کا اور اللہ تعالیٰ کی ذات کا اور احمدیت کے عاشق زار ہیں وہ بالکل۔ان کی قربانیوں کے حالات آپ کو سناؤں تو آپ حیران رہ