خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 146
خطبات طاہر جلدے 146 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء میں سارے معززین کو بلایا ہوا تھا میں نے کہا اس کی کوئی حیثیت نہیں اس کے مقابل پر وہ آپ چھوڑ دیں اور یہاں کا دورہ رکھ لیں۔چنانچہ وہاں مجھے جانے کا موقع ملا۔پہلے احمدی جو ان کے ساتھ تھے جنہوں نے بہت عظیم الشان خدمات سرانجام دی تھیں ان کی قبر پر دعا کی توفیق ملی۔بڑے بہادر، بڑے وفادار ان کو خدا نے ساتھی عطا فرمائے تھے۔انہی کا گھر تھا جہاں ان کو پہلا کمرہ ملا ہے اس کمرے میں جا کر ان کے لئے خصوصیت سے دعا کی تو فیق ملی۔تو حقیقت یہ ہے کہ ان کی قبریں بھی آپ کو بلا رہی ہیں اور ان کی یاد میں جو آج تک زندہ ہیں وہ کبھی بھی مدفون نہیں ہوں گی ہمیشہ زندہ رہیں گی۔بعض علاقوں میں خاک کے ذرے ذرے میں وہ یادیں پھر رہی ہیں۔وہ ہوائیں اڑاتی ہیں ذروں کو جہاں بھی وہ پہنچاتی ہیں وہاں یہ روحوں کو تازہ کرنے والی زندگی بخش یاد میں یہ آپ سب کو پھر بلا رہی ہیں۔آج افریقہ کی سرزمین ان احمدی خدمت کرنے والوں کو پکار رہی ہے جو اپنے فائدے کے لئے نہیں بلکہ بنی نوع انسان کے فائدے کی خاطر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی غلامی اور آپ کی تعلیم سے متاثر ہو کر خدا کی خاطر وہاں جانے کے لئے تیار ہوں اور یہ عہد کریں کہ جو بھی تکلیف ہوگی اس کے باوجود وہ وہاں جا کر ان لوگوں کی خدمت کریں گے۔چنانچہ وہاں جا کر مجھے ایک شعر یاد آیا جو مجھے یوں محسوس ہوا کہ بعینہ اس صورتحال پر صادق آتا ہے۔وہ شعر یہ تھا کہ: کون ہوتا ہے حریف مئے مرد انگن عشق؟ صلى الله ہے مکر رلب ساقی میں صلا ، میرے بعد (دیوان غالب صفحہ: ۱۰۷) غالب کہتا ہے میں تو مر گیا لیکن اپنی زندگی میں اس عشق کی شراب کا مقابلہ میں کیا کرتا تھا جو بڑے بڑے مردوں کی کمر توڑ دیا کرتا ہے۔چنانچہ میرے مرنے کے بعد ساقی بار بار یہ اعلان کر رہا ہے کہ کون ہے آج جو آئے اور اس شراب عشق کے مقابلے کے لئے اپنے آپ کو پیش کرے جو بڑے بڑے مردان میدان کی ہمتیں توڑ دیا کرتی ہے۔مجھے ان کی آواز ان کی اس قبر سے بھی سنائی دے رہی تھی جو مجھ سے اس وقت دور تھی لیکن ان زندہ یادوں سے بھی سنائی دے رہی تھی اور میں نے سوچا کہ یہی مضمون ہے جو جماعت تک میں پہنچاؤں گا۔کون ہوتا ہے حریف مئے مرد انگن عشق؟ ہے مکرر لب ساقی میں صلا ، میرے بعد وہ صلاتو ایک فرضی صلاتھی جو غالب کے ذہن میں آئی اور ویسے عشاق تھے یا نہیں تھے یہ سب فرضی