خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 145
خطبات طاہر جلدے 145 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء امرتسری مرحوم نے بھی بہت عظیم الشان خدمات سرانجام دی ہیں۔ان کو بھی حضرت مولانا نذیر احمد صاحب علی کے ساتھ خدمت کی توفیق ملتی رہی ان کے تابع ان کے ساتھ۔حضرت مصلح موعود کو مولانا نذیر احمد صاحب علی سے بہت محبت تھی اور چونکہ خدا تعالیٰ نے غیر معمولی بصیرت عطا فرمائی تھی اس لئے انسانوں کی قدریں جانچنے کا غیر معمولی ملکہ تھا آپ کو۔چنانچہ آپ نے ان کا جس محبت سے ذکر کیا ہے اور شاید ہی کم کسی اور مبلغ کا اس محبت سے ذکر کیا ہو اور پہلے آدمی ہیں مولانا نذیر احمد صاحب علی جن کو سارے مغربی افریقہ کا رئیس التبلیغ مقرر کیا گیا ہے یعنی وہ صرف ایک ملک کے رئیس نہیں تھے حضرت مصلح موعودؓ نے ان کو سارے مغربی افریقہ کا رئیس بنا دیا تھا اور ابھی بھی ان کی یہ حیثیت باقی ہے جو ہمیشہ باقی رہے گی۔جب مجھے پتا چلا وہ جگہ روکو پور جہاں خاص طور پر انہوں نے قیام کر کے بہت عظیم الشان خدمات سرانجام دی ہیں اور ان کے نام کے ساتھ روکو پور کا لفظ اس طرح مل گیا ہے جس طرح ایک ہی وجود کے دو نام ہوتے ہیں بو میں بھی بہت کام کیا ہے لیکن روکو پور کے ساتھ تو غیر معمولی تعلق تھا اور ان کو آغاز میں انہوں نے وہاں جا کر مشن کھولا تھا۔جب مجھے پتا چلا کے وہاں دورہ نہیں رکھا گیا کیونکہ سڑک خراب ہے تو مجھے بڑی تکلیف ہوئی اور یہ بھی عجیب حسن اتفاق ہے کہ اس کا پتا ایک بی بی سی کے نمائندہ سے ملا۔اس نے سوالات میں یہ سوال کیا کہ آپ عجیب آدمی ہیں سیرالیون آرہے ہیں اور روکو پور نہیں جا رہے۔میں نے کہا کیوں کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا رو کو پورتو مولوی نذید احمد صاحب علی کی خدمات کا مقام ہے خاص ان کی ایسی یادیں وہاں وابستہ ہیں، ایسی عظیم الشان خدمات وہاں سرانجام دی ہیں کہ آپ آئیں گے اور روکو پور چھوڑ کر چلے جائیں گے میں نے کہا ہر گز نہیں۔میں تو آپ کا بے حد ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے یاد کرا دیا مجھے تو پتا ہی نہیں تھا کہ اس دورے میں انہوں نے رکھا نہیں ہوا۔چنانچہ میں نے امیر صاحب سے پوچھا انہوں نے کہا جی! آپ کی تکلیف کی خاطر۔میں نے کہا عجیب بات کرتے ہیں۔مجھے تکلیف سے بچانے کی خاطر نہ کہیں مجھے تکلیف پہنچانے کی خاطر شاید آپ نے یہ کیا ہو۔میں تو سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہاں نہ جاؤں اور میرا دورہ سیرالیون مکمل ہو۔اس لئے اور تقریبیں ہٹانی پڑیں تب بھی آپ کو وہ دورہ بہر حال رکھنا ہوگا۔چنانچہ ایک وہاں فری ٹاؤن کی جو بڑی مجلس انہوں نے رکھی ہوئی تھی خطاب عام اور اس