خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 116
خطبات طاہر جلدے 116 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء اُن کو حرام نہیں قرار دیا جا سکتا لیکن افریقہ میں جا کے میں نے دیکھا ہے بعض ایسی چیزیں جو حرام نہیں تھیں مکروہ تھیں اُن کو حرام قرار دے دیا گیا اور بعض عادتیں جو بد ہیں جن کی اصلاح کی طرف توجہ ہونی چاہئے تھی اُن کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور بعض جگہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سے امور میں کوشش ہو رہی ہے اور تبدیلی ایسی ہے جو اچانک پیدا ہو نہیں سکتی۔مثلاً پر دہ ہے وہاں بعض علاقوں میں عورتیں بالکل تنگی پھرتی ہیں ان کے اندر وہ احساس ہی نہیں ہے شرم کا نہ معاشرہ اس کو بری بات سمجھتا ہے اور مرد عورت کے خلاء کے معاملے میں بہت ہی زیادہ بے احتیاطیں ہیں اور روایتیں ایسی ہیں جو اسلام کے لحاظ سے نا قابل قبول ہیں۔اُن امور میں مبلغین نے محنت کر کے احمدی عورتوں کی حالت کافی بدلی ہے جن کو آپ ویڈیو میں آپ اُن کے حالات دیکھیں گے وہ عورتیں کس طرح آرہی ہیں، جلسوں میں شریک ہو رہی ہیں، استقبال میں کھڑی ہیں یا ادھر اُدھر تو بعض احمدیوں کے دل میں خیال آئے گا کہ اچھا یہ پردہ ہے ان عورتوں کو کس نے اجازت دی تھی حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ جس دن لوگوں سے وہ نکل کے آئیں ہیں اُن کے مقابل پر تو زمیں و آسمان کا فرق اُن میں پڑ چکا ہے۔وہ ساری احمدی عورتیں غیر احمدی عورتیں بھی بیچ میں ہوتی تھیں ، عیسائی بھی ہوتی تھیں اس لیے جہاں آپ کو نمایاں ننگ نظر آئے گا یا پردے کے لحاظ سے بالکل بے احتیاطی دکھائی دے گی وہاں یقین کریں کہ وہ احمدی عورتیں نہیں ہیں۔احمدی عورتوں میں اُن کا لباس ڈھکا ہوا ہے سارا کوئی ننگ ان میں آپ کو دکھائی نہیں دے گا سب نے سروں پر چادریں اوڑھی ہوں گی اور سفید لباس ہو یا دوسرا لباس ہواتنا نمایاں فرق ہے گویا کہ دو مختلف تو میں ہیں باقی افریقہ اور قوم سے تعلق رکھتا ہے اور احمدی افریقہ اور قوم سے تعلق رکھتا ہے۔جبکہ باقی دوسرے مسلمانوں میں وہ تہذیب نہیں آئی تو یہ سارے ہمارے معلمین کی محنت کا پھل ہے اللہ تعالیٰ نے اُسے قبول فرمایا اور بہت ہی نمایاں پاکیزہ تبدیلیاں پیدا ہوئیں ہیں لیکن ابھی اس رستے پر سفر کرنا باقی ہے۔یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ منزل آخری پہنچ گئی ہے اُن کی لیکن کوئی باہر کا آدمی ان کو دیکھے اور سمجھے کہ وہاں کام ہی کچھ نہیں ہوا تو یہ اس کی بڑی سخت غلط فہمی ہوگی۔جا کے آپ باقی افریقہ کو دیکھیں تب آپ کو پتا چلے گا کہ کتنا کام ہوا ہے اور اس سے زیادہ تیز کام کرناممکن ہی نہیں تھا نہ ابھی ممکن ہے کیونکہ وہاں کا جو معاشرہ ہے، وہاں کے اقتصادی نظام اُس میں عورت کو اتنا کام کرنا پڑتا ہے باہر آ کر کہ ہرگز اسلام کا یہ تقاضا نہیں ہو سکتا کہ وہ عورت کو دکھیل کر کمروں میں بند کر