خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 115
خطبات طاہر جلدے 115 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء زبانوں کے سوا دوسری زبان نہیں سمجھ سکتا ترجمے ہونے چاہئیں اور ان تک بات پہنچنی چاہئے۔اُس سے ایک عالمی وحدت پیدا ہوگی اور ایک جیسا کردار پیدا ہوگا ہر جگہ۔اس پہلو سے میں نے دیکھا ہے کہ افریقہ میں ایک اور کام کی بھی ضرورت ہے اور باقی جماعتوں کو بھی اس لحاظ سے متنبہ رہنا چاہئے۔مختلف قوموں میں بعض معاشرے انہوں نے ورثے میں پائے ہیں۔اُن معاشروں کی اصلاح کے لیے بعض دفعہ فوری اقدامات کی ضرورت پڑتی ہے، بعض دفعہ حکمت کے ساتھ رفتہ رفتہ اُن کو پیار سے ایک نئی طرز معاشرت کی طرف لے جانا پڑتا ہے۔افریقہ میں گزشتہ مبلغین نے بڑی محنت کی ہے اور بڑی عظیم الشان قربانیاں دی ہیں اُن کے نیک اثرات ہر جگہ موجود ہیں۔جس طرح چلنے والا نقش پا پیچھے چھوڑ جاتا ہے وہ نقوش پا چھوڑ آئے ہیں اور ہر جگہ جا کر مجھے اندازہ ہو جاتا تھا کہ کونسا سلسلے کا مبلغ خواہ وہ پچاس سال پہلے آیا تھا کیا کیا خوبیاں پیدا کر گیا ہے اور اُس کے برعکس بعض دفعہ تکلیف کے ساتھ یہ بھی محسوس ہوتا تھا کہ کون کون سے خلاء پیچھے چھوڑ گیا ہے اور اُن کی طرف توجہ کرنے کی توفیق ملتی رہی۔اُس سے مجھے یہ خیال آیا کہ ساری دنیا کی جماعتوں کو اس بارے میں متنبہ کرنا چاہئے کہ معاشرے اگر چہ مختلف ہیں دنیا کے لحاظ سے مگر جہاں جہاں معاشرہ دین کے ساتھ ایسے مل جاتا ہے بعض ایسی جگہیں ہیں جہاں معاشرہ اور دین دونوں مل جاتے ہیں اُس حصے کو ہم اسلامی معاشرہ کہیں گے اور وہاں غیر معاشرے کو رد کرنا ضروری ہے۔بعض معاشرے کے ایسے پہلو ہیں جن کے دین کے ساتھ کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔معصوم بعض باتیں ہیں، قوموں میں رواج ہیں تو چلنے دیں اُن کو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن جہاں کسی قوم کا معاشرہ دین کی حدود میں دخل دے وہاں اُس معاشرے کے رنگ بدلنے ہوں گے اور دین کا رنگ اُن پر غالب کرنا ہو گا۔اس پہلو سے میں نے دیکھا ہے کہ وہاں بعض خلاء محسوس ہوئے اور بعض جگہ ضرورت سے زیادہ سختی اختیار کی گئی ہے بعض چیزوں میں۔اس لیے وہاں عجیب قسم کی کھڑی نظر آئی ہے۔بعض خوبیاں جو رفتہ رفتہ پیدا کرنی چاہئے تھیں ان سے کچھ غفلت ہوئی اور بعض باتوں میں حد سے زیادہ تشد د اختیار کیا گیا ہے۔گویا کہ وہاں کی جماعت اور ہے اور باہر دنیا کی جماعت اور ہے وہاں کا اسلام اور ہے اور باہر کا اسلام اور ہے۔شرعی امور میں جو چیزیں منع ہیں وہ ہر جگہ برابر منع ہیں۔جن چیزوں کی اجازت ہے اُن کی ہر جگہ برابر اجازت ہے۔جو مکروہات ہیں وہ ہر جگہ مگر وہ رہیں گی