خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 114
خطبات طاہر جلدے 114 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء ملائمت سے بات کرتے ہیں اُس کا آخری نتیجہ یہی نکلتا ہے۔بعض مبلغین اپنی ستی کی وجہ سے ایسا نہیں کرتے کوئی انانیت نہیں، کوئی علم کا زعم نہیں ہے لیکن ستی کر رہے ہیں۔اُن کو پتا نہیں کہ وہ جماعت کو محروم رکھ رہے ہیں۔چنانچہ افریقہ کے دورے کے بعد مجھے اور بھی زیادہ شدت سے اس بات کا احساس ہوا ہے کہ بات کے مرکزی نکتے پہنچا دو حالانکہ بات کے مرکزی نکتے اُس لباس میں لپیٹ کے جب تک نہ پہنچائے جائیں جو اُن کے لیے موزوں ہے اُس وقت تک وہ اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ایک ہی بات کہی جاتی ہے سچ بولو۔ہر مقرر، ہر خطیب اٹھ کر یہ ہی صرف کیوں نہیں کہہ دیتا کہ سچ بولو وہ بیچ بلوانے کے لیے کئی جتن اختیار کرتا ہے، محنت کرتا ہے، سوچتا ہے کہ کس بات کا اثر زیادہ پڑے گا کس بات سے سچ کی محبت پیدا ہو گی ، کس طرح جھوٹ کو زائل کرنے کے لیے، اُس سے نفرت پیدا کرنے کے لیے مضمون کو سجا کر بنا کر پیش کیا جا سکتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں یہ چیزیں زوائد ہیں اور بنیادی بات پہنچ گئی بس ٹھیک ہے سچ بولو ، سچ بولیں گے لوگ۔قرآن کریم میں لکھا ہوا ہے سچ بولو آپ کے کہنے کی پھر کیا ضرورت ہے۔اُس سے پہلے سارے انبیاء یہی کہتے آئے ہیں کہ سچ بولو جس طرح صلى الله رسول کریم نے سچ بلوایا ہے قرآن کریم کی تفسیر میں ایک نمونہ دکھایا پھر بڑے پیار سے بڑی محبت سے لوگوں کو سمجھایا اُس کا اثر بالکل اور تھا۔اسی طرح وقت کے لحاظ سے سچائی ہر قسم کے نئے ابتلاؤں میں سے گزرتی ہے۔زمانے کے اثرات ہوتے ہیں اسی خوبی پر جو پہلے کئی ابتلاؤں سے گزر کے ، بیچ کے یہاں تک پہنچی ہوتی ہے یا قریب المرگ ہو جاتی ہے اُس وقت۔اُس وقت خدا جن لوگوں کے سپر د کام کرتا ہے پھر اُن کو سمجھاتا ہے کہ اس خوبی کو زندہ کرنے کے لیے زیادہ ذہن نشین کرنے کے لیے نئے زمانے کی ضرورتوں کے پیش نظر، یہ یہ رنگ اختیار کیے جائیں، اس طرح یہ بات پیش کی جائے۔اس لحاظ سے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے سارے عالم کی جماعتوں کو ضرورت ہے افریقہ کو ہی نہیں اور پوری کوشش کرنی چاہئے کہ گزشتہ جو خطبات کا سلسلہ ہے وہ اگلے سال کے شروع ہونے سے پہلے جماعتوں تک پہنچ جائے ، کیسٹ ضروری نہیں ہیں اگر چہ ٹیسٹس کے ذریعے آواز کا ایک تعلق پیدا ہو جاتا ہے جس میں زیادہ محبت کے جذبات ابھرتے ہیں اور انسانی ذہن زیادہ قبول کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے مگر آواز ضروری نہیں ہے اور ہر شخص کے بس میں بھی نہیں ہے کہ ٹیسٹس کو ہی سنتا رہے۔اس لیے تحریر میں بھی آنے چاہئیں۔دنیا کی تمام ایسی زبانوں میں جہاں احمدی اُن