خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 93 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 93

خطبات طاہر جلد ۶ 93 88 خطبہ جمعہ ۶ / فروری ۱۹۸۷ء حیرت کی بات ہے کہ باوجود اس کے کہ باہر سے جانے والے احمدی تو وہاں آباد ہوئے ہیں مختلف ممالک میں مثلاً ہنگری میں جب انقلاب آیا تو ہنگری کے انقلاب سے پہلے خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں جماعت کثرت سے پھیلنا شروع ہوئی تھی یعنی خصوصا مسلمانوں میں۔وہ لوگ جو ہجرت کر گئے جنوبی امریکہ میں اُن کے کہیں کہیں سے خط آتے رہے، کہیں کہیں سے ان کی اطلاعیں ملتی رہیں جو آہستہ آہستہ کم ہونے لگیں اور ایک لمبے عرصے میں وہ تعلق بھی ٹوٹ گیا۔سوائے اتفاقاً کبھی کوئی آواز دوبارہ آجاتی ہے۔اس سے یہ تو پتہ چلتا ہے کہ آج سے چالیس پچاس سال پہلے سے ہی وہاں جنوبی امریکہ کے مختلف ملکوں میں دانہ دانہ کہیں کہیں احمدیت پہنچی ہے لیکن پھر اس نے نشو نما پائی یانہیں پائی ان لوگوں کا کیا بنا اس کا ہمیں علم نہیں ہے۔بعض جگہوں پر پاکستان سے جاکے بسنے والے بھی موجود ہیں مگر مقامی نہیں تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس نئے سال میں یہ پہلا فضل نازل فرمایا کہ برازیل میں پہلی دفعہ مقامی دوستوں میں سے جو عیسائی تھے ان میں خدا تعالیٰ نے احمدیت میں داخل ہونے والے پھل عطا فرما دئیے اور ایک خاتون جو بہت تعلیم یافتہ ہیں ان کے بعد بعض نوجوان بھی خدا کے فضل سے اسلام اور احمدیت میں داخل ہوئے اور اب وہاں امید بندھی ہے کہ انشاء اللہ مقامی طور پر ایک تحریک پرورش پائے گی لیکن یہ ایک ہی ملک ہے صرف ابھی تک اور میں سمجھتا ہوں کہ اگلی صدی سے پہلے اگر چہ وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے لیکن کام تو اللہ نے کرنے ہیں اگر دعا اور خلوص اور ہمت لے کر ہم کوشش کریں تو بعید نہیں کہ اس بر اعظم کے ہر ملک میں مقامی طور پر پودا لگا دے۔یہ وہ خیال ہے جس کے متعلق میں سوچتا رہا تو میرے ذہن میں یہ تجویز ابھری ہے کہ تحریک جدید کی طرف سے وکیل اعلیٰ جو آج کل یہاں آئے ہوئے ہیں وہ منصوبہ بندی کمیٹی کے مشورے کے ساتھ بعض ممالک ایک سے زیادہ ملکوں کو بے شک تقسیم کریں لیکن یہاں پندرہ دن والے وقف کی سکیم کام نہیں کر سکتی۔چھ مہینے یا سال کے یا چھ چھ مہینے اور سال سال کے وقف کی تحریک زیادہ مؤثر ثابت ہو گی اور اس ضمن میں ایک بالکل نئی طرز پہ کام کرنا پڑے گا۔عام جوطریق ہے عارضی وقف کا اُس کے اوپر یہ کام نہیں ہو سکتا۔ایسے ممالک جن کے سپر د وہ جگہ ہو وہ تلاش کریں، ایسے ریٹائرڈ آدمی یا ایسے کام کرنے والے جو لمبی چھٹی لے سکتے ہوں اور اگر ان کو توفیق نہ ہو تو سارا ملک ان کے لئے اخراجات مہیا کرے اور ان سے کہیں کہ فرض کفایہ ادا کرو ہم سب کی طرف سے اور