خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 84 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 84

خطبات طاہر جلد ۶ 84 خطبہ جمعہ ۶ فروری ۱۹۸۷ء عرصے سے جاری ہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ یہ منظر عام پر اُبھرنے والی تیاریاں بھی شروع ہو جائیں اور اس میں ساری جماعت کو حصہ لینا ہوگا۔تمام ملکوں میں اس وقت سو سالہ جشن منانے والی منصوبے کی کمیٹیاں قائم کی جاچکی ہیں اور ان ملکوں میں سے پھر کچھ گروہ بنا کر تین تین، چار چار پانچ پانچ ملکوں کے ایسے گروہ بنا دیئے گئے ہیں جن میں علاقائی کمیٹیاں قائم کر دی گئیں ہیں۔پھر علاقائی سطح کے علاوہ مشرق اور مغرب کی تقسیم کے لحاظ سے، Continents کی تقسیم کے لحاظ سے مختلف اس سے بالا کمیٹیاں بھی قائم ہیں اور دو مرکزی کمیٹیاں ہیں، ایک جو شروع سے ہی ربوہ میں کام کر رہی ہے اور ابھی بھی جاری ہے اور ایک جو بیرون ربوہ کے ممالک میں خصوصی ہدایات دینے اور ان کے کاموں کو مرتب کرنے اور ایک دوسرے سے باہم رابطہ پیدا کرنے کے لئے قائم کی گئی ہے، وہ بھی گزشتہ سال سے بڑے انہماک سے کام کر رہی ہے۔تو اب ضرورت یہ ہے کہ احباب جماعت اپنی اپنی صلاحیتیں اور اپنی قابلیتیں اپنے اپنے امراء ا کی وساطت سے ان کمیٹیوں کو پیش کریں کیونکہ ہر علم کے ہر شعبہ زندگی کے ماہرین کی شدید ضرورت ہے۔مردوں کی بھی ضرورت ہے خواتین کی بھی، بوڑھوں کی بھی ، بچوں تک کی بھی ضرورت ہے کہ وہ اپنے اپنے رنگ میں اپنے اپنے دائرہ کار میں اس صد سالہ جشن کو کامیاب بنانے کے لئے کیا محنت کریں گے کیا خدمات سرانجام دیں گے اس کی وہ وضاحت کریں گے تو کمیٹیوں کی بھی رہنمائی ہوگی۔منصوبے کے متعلق ایک تو مرکزی منصوبہ ہے جو ساری دنیا کی رہنمائی کے لئے مکمل ہو چکا ہے کئی حصے اس کے تنفیذ کے عمل میں ہیں یعنی ان پر عمل درآمد ہورہا ہے یا کچھ حصہ پر ہو چکا ہے۔کچھ علاقائی کمیٹیاں اس وقت ان منصوبوں کی روشنی میں خود غور کر رہی ہیں لیکن ہر ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر اپنا مقامی منصوبہ بھی بنانا چاہئے اور اس کے لئے یہ انتظار نہیں کرنا چاہئے کہ مرکز کی طرف سے کب ہدایات آتی ہیں کب ان کی طرف سے بنا بنایا منصوبہ ملتا ہے کیونکہ ہر ملک کی اپنی ضروریات ہیں ، ہر ملک کی اپنے مسائل ہیں، ہر ملک کی جماعت کی قوت مختلف ہے، ہر ملک میں جماعت کے تعلقات حکومت والوں سے مختلف ہیں۔مخالفتوں کا مقام بھی مختلف ہے درجہ بدرجہ کہیں زیادہ مخالفت کہیں کم۔ہر ملک میں انسانی آزادی کا معیار مختلف ہے۔غرضیکہ اتنے اختلاف کی باتیں موجود ہیں کہ ایک مرکزی منصوبہ ہر ملک میں سو فیصدی چسپاں ہو ہی نہیں سکتا۔شکلیں الگ الگ ہوں تو ہر