خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 727
خطبات طاہر جلد ۶ پر بھی صادق آتی ہے۔727 خطبہ جمعہ ۶ نومبر ۱۹۸۷ء اس پہلو سے جب میں غور کرتا ہوں تو مختلف جماعتوں کے مختلف رد عمل دکھائی دیتے ہیں اور مختلف جماعتوں میں پھر آگے مختلف رد عمل نظر آتے ہیں۔اگر کینیڈا کو مثلاً ایک کھیت کے طور پر تصور کریں اور گزشتہ سارے خطبات جن میں تبلیغ کا ذکر کیا گیا ہے ان خطبات کے نتیجے میں جماعت کینیڈا کے رد عمل کو دیکھیں اور میرے ساتھ شامل ہونے والے دیگر نصیحت کرنے والوں کو اگر الزُّرَّاعَ میں داخل کر لیا جائے یعنی امیر ہے، مقامی امراء ہیں ،سیکر ٹر یان تبلیغ ہیں وہ سارے محنت کر رہے ہیں اس لئے ہم سب پر جمع کا صیغہ آئے گا۔اس پہلو سے ایک اور بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ یہ آیت فصاحت و بلاغت کے درجہ کمال تک پہنچی ہوئی ہے۔محمد رسول اللہ ﷺہ ایک شخص کا ذکر فرمایا اور پھر وَالَّذِينَ مَعَةً کہہ کہ اس مضمون کو پھیلا دیا کہ اس کے ساتھ اور بھی بہت سے ساتھی ہیں۔اسی طرح الدراع میں بھی ایک مرکزی نقطہ ہوگا جو سارے نظام زراعت کا انچارج ہوگا اور اس کے ساتھ پھر اور کام کرنے والے شامل ہوتے چلے جائیں گے اور ایک بڑی جماعت بن جائے گی۔یہ مضمون ہے جو اس میں ساتھ بیان فرمایا گیا۔یہاں مرکزی نقطہ سے مرادخلیفہ وقت نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں اور آپ کے ساتھ شامل ہونے والے خلفاء اور پھر ان کے ساتھ شامل ہونے والے دیگر ساتھی اور اس طرح یہ مضمون پھیلتا چلا جاتا ہے۔اس پہلو سے جب میں غور کرتا ہوں تو بعض ممالک خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کوششوں کے نتیجے میں بہت ہی اچھا رد عمل دکھاتے ہیں۔بعض زمینیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت جلد محنت کا بدلہ اگلتی ہیں۔بیج ان میں داخل کریں تو اسے بڑھا کر واپس کرتی ہیں، تھوڑی محنت کریں زیادہ پھل دیتی ہیں اور بعض زمینیں ہیں جو نسبتاً بہت زیادہ محنت چاہتی ہیں ، بہت زیادہ توجہ چاہتی ہیں۔چنانچہ بعض چھوٹے چھوٹے ممالک ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ توفیق ملتی ہے کہ جب میں تحریک کرتا ہوں بڑی کثرت کے ساتھ اس کے نتیجے وہاں ظاہر ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ الزراع جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے ان کی تعداد بھی بڑھتی چلی جارہی ہے۔اپنے رقبے کے لحاظ سے چھوٹے ، اپنی آبادی کے لحاظ سے چھوٹے ، جماعت احمدیہ کے لحاظ سے چھوٹے لیکن کھیتیاں اگانے کے لحاظ سے بہت ہی زرخیز اور بہت ہی وسیع اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بڑی