خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 3
خطبات طاہر جلد ۶ 3 خطبہ جمعہ ۲/جنوری ۱۹۸۷ء پہلے سے بہتر حالت میں اُبھرے۔اس کے سوا اس دورانی گردش کا اور کوئی بھی مفہوم نہیں۔پس جو کچھ بدلتا ہے وہ انسان یا اس کا گرد و پیش ہے۔وقت ایک بظاہر گھومتی ہوئی چیز ہے لیکن کچھ بھی نہیں ہے۔محض ایک تصور ہے۔جو چیز گھوم رہی ہے ، جو چیز حرکت میں ہے، وہ اس پیمانے کے اندر پڑی ہوئی کوئی چیز ہے جو ڈھل رہی ہے مختلف شکلوں میں۔اگر وہ بہتر نہ ہو تو محض وقت کے گزرنے کا کچھ بھی پیغام نہیں کوئی بھی اس کا معنی نہیں۔لیکن انسان عجیب خود فراموش چیز ہے کہ حقیقت کو تو فراموش کر دیتا ہے جو اصلیت ہے اور وقت کے ظاہری پیمانے کو پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور اس کے ساتھ اپنی خوشیاں وابستہ کر لیتا ہے۔چنانچہ اب یہ جمعہ اس نئے سال کا جمعہ ہے جس میں ہم داخل ہو چکے ہیں۔اس سے پہلے مغرب نے اپنی خوشیاں اس نئے سال کے دور سے اس طرح وابستہ کیں کہ اتنی شراب پی ، اتنا غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا کہ سارے یورپین اور مغربی دوسرے ممالک میں پولیس کو کبھی بھی اتنا مصروف نہیں ہونا پڑا جتنا اس نئے سال کے آغاز میں مصروف ہونا پڑا۔مصیبت پڑی ہوئی تھی کس طرح ان لوگوں کو سنبھالیں اور اظہار یہ ہے کہ نیا سال چڑھا ہے خوشیوں کا وقت ہے ،اس لئے ان خوشیوں کا اظہار گناہوں کے ذریعے کیا جائے، غیر ذمہ داری کے ذریعے کیا جائے۔اور کروڑہا کروڑ روپیہ، ڈالرز اور پاؤنڈز کی شکل میں ایک دوسرے کو مبارکباد کے پیغام دینے پر خرچ ہوا۔سوال یہ ہے کس چیز کی مبارک باد ہے؟ وقت کے پہیہ گھومنے میں تو تمہارا ایک ذرے کا بھی دخل نہیں۔کس کوشش کس محنت سے یہ پھنسا ہوا پہیہ تم نے نکالا تھا کہ اب اسے دوبارہ چلانے کی خوشی میں تم ایک دو سرے کو مبارکبادیں دے رہے ہو۔کیا واقعہ گزرا ہے جس کے نتیجے میں مبارکباد کا انسان مستحق ہوا ہے۔اس لئے اس سے پہلو سے اگر آپ اس رسم کا جائزہ لیں تو بالکل بے معنی اور کھوکھلی رسم ہے اس میں کچھ بھی حقیقت نہیں۔لیکن مومن کے اوپر بھی یہ دور آتا ہے مومن بھی ہر دفعہ اس دور کے ایک خاص مقام پر سے گزرتا ہے جہاں وقت کے لحاظ سے اس نے ایک نشان لگا رکھا ہے کہ یہ 1946ء کا نشان ہے یہ 47ء کا یہ 48ء کا یہ 49ء کا یہ 50 ء کا اور اس طرح یہ نشان آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔اس کے