خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 521
خطبات طاہر جلد ۶ 521 خطبہ جمعہ۷/اگست ۱۹۸۷ء اور پاکیزگی کی تعلیم دی گئی ہے کیونکہ خانہ کعبہ کو جب مشابةً لِلنَّاسِ قرار دیا اور امن کی جگہ قرار دیا تو خانہ کعبہ کو ہر انسان کے لئے ایک بہترین ماڈل قرار دے دیا۔مَثَابَةً میں یہ مضمون بھی داخل ہے کہ وہ اسے ایک صلح نظر بنا کر اس کی طرف چلے آتے ہیں، وہ نمونہ ہے تمام بنی نوع انسان کے لئے بہترین گھر کا نمونہ۔گھر میں جو سب سے اعلیٰ صفات ہونی چاہئیں وہ دو بیان فرمائی گئی ہیں اول طور پر۔اول گھروں میں عبادتیں ہونی چاہیں۔دوئم ہر گھر کو امن حاصل ہونا چاہئے اور سوئم ہر گھر صاف اور پاک ہونا چاہئے۔تنزیل کے طور پر بیت اللہ سے اترتے ہوئے سب سے پہلے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی مساجد کو پاک اور صاف رکھیں ، جہاں کہیں بھی وہ مساجد واقع ہوں ان کی صفائی ان کی پاکیزگی ، ان کی ظاہری زینت کا بھی خیال رکھیں۔جہاں تک زینت کا تعلق ہے قرآن کریم میں دوسری آیت میں یہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہر سجدہ گاہ کے لئے اپنی زینت لے کے حاضر ہوا کرو، زینت اختیار کر کے سجدہ گاہوں کی طرف آیا کرو۔تو جو شخص خود زینت کا محل نہ ہو وہاں زینت لے کے جانا ایک بے محل بات ہے، بے موقع بات ہے۔مضمون میں یہ بات بھی داخل ہو گئی کہ مسجدیں مزین ہونی چاہئیں، صاف ستھری پاکیزہ نظر کو اس بھانے والی اور دیدہ زیب۔اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کو ابھی بہت زیادہ توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔جہاں تک مساجد کا تعلق ہے اس کے ساتھ ڈیزائن میں تو کچھ کسی حد تک یہ اجازت دی جاسکتی ہے کہ قومیں اپنے منشاء اپنے مزاج کے مطابق اس کی تصویر بنائیں، اس کے مطابق اس کا ڈھانچہ تیار کریں۔جس رنگ میں بھی قومیں پسند کرتی ہیں عمارتوں کے نقشے اپنی پسند کی جھلک اپنی مساجد میں بھی دکھانے کی کوشش کریں۔اس حد تک تو کوئی اعتراض کی بات نہیں لیکن صفائی کے معیار کے لحاظ سے ہر قوم کی مسجد کا صفائی کا معیار مختلف ہو یہ بالکل اسلامی تعلیم کے خلاف بات ہے۔جب بھی بیت اللہ کا ذکر کرے گا اور بیت اللہ کے نمونے پر قائم ہونے والی دیگر عبادت گاہوں کا مضمون سامنے آئے گا تو صفائی اور پاکیزگی کا مضمون اس کے ساتھ اس طرح لازم ہے جسے الگ کیا ہی نہیں جا سکتا اور نمونہ خدا تعالیٰ نے ہمارے سامنے رکھ دیا اور پھر مسجد کی خدمت کو ایسا اعزاز بخشا ہے کہ اس سے بڑا اعزاز کسی مقام کی صفائی کے متعلق انسان کے تصور میں آہی نہیں سکتا۔