خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 435
خطبات طاہر جلد ۶ 435 خطبہ جمعہ ۲۶/ جون ۱۹۸۷ء ستائے جاؤ گے اور طرح طرح کی با تیں تمہیں سننی پڑیں گی اور ہر یک جو تمہیں زبان یا ہاتھ سے دکھ دے گا وہ یہ خیال کرے گا کہ اسلام کی حمایت کر رہا ہے۔کتنی صفائی کے ساتھ یہ پیشگوئی اس زمانے میں پوری ہورہی ہے حیرت ہوتی ہے آگے آپ سنیں ) اور کچھ آسمانی ابتلا بھی تم پر آئیں گے تا تم ہر طرح سے آزمائے جاؤ۔سو تم اس وقت سُن رکھو کہ تمہارے فتح مند اور غالب ہو جانے کی یہ راہ نہیں کہ تم اپنی خشک منطق سے کام لو یا تمسخر کے مقابل پر تمسخر کی باتیں کرو، یا گالی کے مقابل پر گالی دو کیونکہ اگر تم نے یہی راہیں اختیار کیں تو تمہارے دل سخت ہو جائیں گے اور تم میں صرف باتیں ہی باتیں ہوں گی جن سے خدا تعالیٰ نفرت کرتا ہے اور کراہت کی نظر سے دیکھتا ہے۔تو تم ایسا نہ کرو کہ اپنے پر دو لعنتیں جمع کر لو، ایک خلقت کی اور دوسری خدا کی بھی۔یقیناً یا درکھو کہ لوگوں کی لعنت اگر خدا کی لعنت کے ساتھ نہ ہو کچھ بھی چیز نہیں۔اگر خدا ہمیں نابود نہ کرنا چاہے تو ہم کسی سے نابود نہیں ہو سکتے لیکن اگر وہی ہمارا دشمن ہو جائے تو کوئی ہمیں پناہ نہیں دے سکتا۔ہم کیونکر خدا تعالیٰ کو راضی کریں اور کیونکر وہ ہمارے ساتھ ہو۔اس کا اس نے مجھے بار بار یہی جواب دیا کہ تقویٰ سے“۔پہلا مضمون جو صبر اور تو کل سے تعلق رکھتا تھا اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقویٰ کے مضمون میں داخل فرمایا ہے اور اپنی طرف سے نہیں۔فرماتے ہیں جب میں نے ان باتوں پر غور کیا کہ ان حالات میں ہم کیا کریں اور کس طرح تیری رضا کو حاصل کریں۔فرمایا بار بار مجھے یہی خدا تعالیٰ کی طرف سے جواب دیا گیا کہ تقویٰ سے۔سواے میرے پیارے بھائیو! کوشش کرو تا متقی بن جاؤ۔بغیر عمل کے سب باتیں بیچ ہیں اور بغیر اخلاص کے کوئی عمل مقبول نہیں۔سوتقویٰ یہی ہے کہ ان تمام نقصانوں سے بچ کر خدا تعالیٰ کی طرف قدم اُٹھاؤ اور پر ہیز گاری کی باریک راہوں کی رعایت کرو۔سب سے اول اپنے دلوں میں انکسار اور صفائی اور اخلاص پیدا کرو اور سچ مچ دلوں کے علیم اور سلیم اور غریب بن جاؤ کہ ہر یک