خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 39

خطبات طاہر جلد ۶ 39 39 خطبہ جمعہ ۱۶/جنوری ۱۹۸۷ء الله لئے داخل ہورہے ہیں۔جو آنحضرت ﷺ کی عظمت کا دروازہ کھولا جار ہا تھا اُسے آنحضرت ﷺ کے اندر نعوذ بالله من ذالک بشری نقائص اور آپ کے روحانی مدارج کی حدیں قائم کی جارہی ہیں اس کو دکھا کر کہ دراصل آپ کی حدود کی تعیین مقررتھی کہ آپ کی اتنی معمولی حدود ہیں کہ نعوذ بالله بعض صورتوں میں الله جانور بھی بڑھ جاتا ہے۔فقرے ایسے ظالمانہ ہیں، ایسے خطرناک ہیں کہ انہیں کوئی آنحضرت ﷺ سے محبت کرنے والا شدید تکلیف کے بغیر دہرا نہیں سکتا۔اگر دُہرانا پڑے تو انتہائی تکلیف ہوتی ہے جن کو کہہ دیا جاتا ہے کہ نقل کفر، کفر نا باشد، کفر کی نقل کرنا یعنی اُسے دہرانا ایک خاص مقصد کے لئے ، بتانے کے لئے کفر نہیں ہے، جیسا کہ قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ پر نہایت بھیانک الزامات کوڈ ہرایا ہے۔مفتری کہا گیا قرآن کریم نے بتایا کہ ہاں مفتری کہتے ہیں۔مراد یہ ہے کہ کفر بکنے والا جو ہے وہ ذمہ دار ہے اگر کسی مقصد کی خاطر اُسے دہرایا جائے اور اس کی طرف منسوب کر کے دہرایا جائے تو وہ گناہ نہیں ہے ، غلط نہیں ہے مگر محبت کے جذبات کا الگ قانون ہے اور دہراتے وقت تکلیف ہوتی ہے۔جب بھی قرآن کریم کی ان آیات سے آپ گزریں گے اگر آنحضرت ﷺ سے آپ کو پیار ہوگا ہر دفعہ اس طرح گزریں گے جس طرح چمن میں چلتے چلتے کوئی کانٹا چھ جاتا ہے اور اس آیت پر سے گزرتے ہوئے دل کو تکلیف محسوس ہوتی ہے۔یہاں یہ جو تکلیف ہے بشر کے معاملے میں دو گروہوں کے مباحث کی یہ ہر خدا اور رسول سے محبت کرنے والے کے دل کو ضرور پہنچتی ہے۔میں کہنا یہ چاہتا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے بشر کی حیثیت سے اتنا عظیم الشان پیغام دیا ہے بنی نوع انسان کو کہ کبھی کسی نبی نے اس شان کا پیغام نہیں دیا۔بشریت کے ہر میدان میں میں نے قدم بڑھایا اور بشریت کے ہر میدان کو نور کا میدان بنادیا کوئی فرق نہیں رہنے دیا۔اس لئے تم بھی اگر میری پیروی کرو، میرے پیچھے چلو تو تمہاری بشریت مسلسل نور میں تبدیل ہوتی چلی جائے گی اور ایک مقام ایسا پہنچے گا، جس طرح خدا نے میرے متعلق کہا مَثَلُ نُورِ ٩ ( النور : ۳۶) اس طرح تمہارے متعلق بھی اللہ تعالیٰ یہی فرمائے گا اور میرے تابع وہ مثالیں تمہارے او پر بھی صادق آنے لگیں گی۔اسی لئے قرآن کریم کی اسی آیت نے آخر تک پہنچتے پہنچتے یہ بیان فرما دیا کہ یہ نور جو محمد مصطفی ﷺ سے شروع ہوا تھا وہ مومنوں کے سینوں میں گھر گھر میں