خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 21
پھر فرمایا: خطبات طاہر جلد ۶ 21 21 خطبہ جمعہ ۹ / جنوری ۱۹۸۷ء وقت کی تعریف، اپنے وقت کی قدر کریں ( خطبه جمعه فرموده ۹ جنوری ۱۹۸۷ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کریمہ کی تلاوت کی: اِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَتِ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا ۚ سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ( آل عمران : ۱۹۱ ۱۹۲) آج جب میں نے اذان کے لئے اجازت دینی تھی کہ اذان دے دیں تو اس وقت میرے منہ سے اذان کی بجائے یہ فقرہ نکلا کہ وقت دے دیں۔وجہ اس کی یہ ہے کہ آج کے خطبہ کے لئے میں نے وقت کا موضوع چنا ہوا تھا اور وقت میرے ذہن میں اس طرح گردش کھا رہا تھا کہ بے اختیار خود بخود زبان سے اذان کی بجائے وقت دے دیں کا لفظ نکل گیا۔اگر ایک مضمون ذہن پر غالب آجائے بہت زیادہ تو بعض دفعہ انسان کی زبان پر بھی اس کا قبضہ ہو جاتا ہے،اس کے افعال پر بھی اس کا قبضہ ہو جاتا ہے۔تبھی سوتے میں جب اٹھ کے بچے چلتے ہیں ان کو پتا نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔لیکن ان کے افعال پر بھی ذہن میں جو خیالات گھوم رہے ہیں ان کا قبضہ ہوا ہوتا ہے۔تو بہر حال