خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 224
خطبات طاہر جلد ۶ 224 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۷ء کے معراج میں۔یہی مضمون تھا کہ خدا کی محبت اور خدا کے عرفان میں کونسا نبی قریب تر ہوا۔تو اس مضمون کے سامنے اس حدیث کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ خدا تعالیٰ رسول الله الله تربیت کر رہا تھا۔یہ تو بالکل عقل میں پڑنے والی بات نہیں۔اس لئے بھی یہ مضمون رسول کریم اللہ کے متعلق بیان نہیں ہو سکتا کہ آپ اپنی امت کو بتائیں کہ اس معاملہ میں آپ کی نہیں بلکہ حضرت داؤڈ کی پیروی کریں۔یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ جس کی سنت کامل ہواس کی پیروی کو چھوڑ کر ایک پرانے نبی کا ذکر کر کے کہ اس کی پیروی کرو۔یہ نہیں ہوسکتا، ناممکن ہے۔اس حدیث کے مضمون کو سمجھنے کے لئے محبت کا عرفان ہونا ضروری ہے۔اس کے بغیر یہ حدیث سمجھ نہیں آسکتی۔ایک شخص جو اپنی محبت میں بڑھ جاتا ہے بسا اوقات اس کی اپنی محبوب سے گفتگو اس طرح ہوتی ہے کہ میرے سوا تو نے کس سے پیار کیا ہے اس کی باتیں بھی مجھے بتا! میرے سوا کس نے تجھ سے پیار کیا مجھے اس کے قصے بھی سنا اور یہ ذکر بھی بہت پیارے مخفی طریق پر ایک عاشق اور محبوب کے درمیان چلتارہتا تھا۔کبھی شکوے کا رنگ اختیار کر لیتا ہے کبھی اس طمانیت کا رنگ اختیار کر لیتا ہے کہ ہاں مجھ سے بڑھ کر اس نے کبھی کسی سے پیار نہیں کیا۔یقیناً آنحضرت ﷺ سے خدا الله تعالیٰ نے ان واقعات کا اظہار جو گزشتہ انبیاء سے خدا کے پیار کے واقعات ہیں اسی رنگ میں فرمایا اور کوئی اس کا مطلب نہیں تھا۔آنحضرت ﷺ کے سامنے جب یہ مضمون پیش ہوا ہوگا تو کوئی نئی بات معلوم نہیں ہوئی۔یہ ہوا معلوم ہوا کہ داؤد علیہ السلام نے بھی منتیں کر کے خدا سے محبت مانگی تھی اور جو بھی خدا سے محبت مانگتا ہے ہر انسان کو اللہ تعالیٰ محبت عطا کر دیتا ہے۔مگر یہ مراد نہیں ہے کہ اس محبت کا مقام گویا کہ آنحضرت ﷺ کی سے محبت کرنے سے افضل تھا۔لیکن جو باتوں کا رنگ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت ہی پیار صل الله کے ایسے قصے چلتے رہے۔آنحضرت ﷺ اور اللہ کے درمیان جن کی بسا اوقات محض اشارہ جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں اور وہ بھی مخفی چل رہے ہیں۔چنانچہ اس لحاظ سے میں نے بسا اوقات احادیث پر غور کیا ہے تو حیران رہ گیا کہ بہت سی حدیثیں جن کے مضمون کو ہم دوسروں پر چسپاں ہوتا ہوا سمجھتے ہیں دراصل مخفی طور پر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی محبت کا مضمون ہی تھیں اور آنحضرت ﷺ میں اس قدر انکساری تھی اور اتنی حیا تھی کہ بعض دفعہ ایسے مضمون کا ذکر کرتے ہوئے جس کا آپ کی ذات سے تعلق