خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 109
خطبات طاہر جلد ۶ 109 خطبہ جمعہ ۱۳؍ فروری ۱۹۸۷ء نے کر دکھائی۔تو جن لوگوں کی ڈکشنری میں ناممکن کا لفظ نہ ہو ، وہ لوگ جن کی ڈکشنریاں ناممکن سے بھری ہوتی ہیں وہ ان چیزوں کو ناممکن دیکھ رہے ہوتے ہیں ، ناممکن سے خالی ڈکشنریوں والے ان کو ممکن کر کے دکھاتے چلے جاتے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غلاموں اور عاشقوں کے لئے اسلام کی فتح کا جہاں تک تعلق ہے کسی ابہام کسی شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔لا زما یہ فتح ہوگی لیکن ہوگی یقین کے ذریعے کیونکہ قرآن مجید فرماتا ہے وَ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ اور اگر آپ کا یقین کمزور ہو گا تو اس فتح کے امکانات بھی کم تر ہوتے چلے جائیں گے، مدھم پڑتے چلے جائیں گے۔یہ ایمانیات والا معاملہ نہیں ہے کہ آپ کو ایمان ہو یا نہ ہو خدا بہر حال قائم ہے، آپ کو ایمان ہو یا نہ ہو فرشتوں کو وجودمٹ نہیں سکتا۔اسلام کی فتح آپ کی عدم یقینی کی وجہ سے پیچھے چلتی چلی جائے گی اس کا وجود میں آنا آپ کے یقین سے ایک براہ راست تعلق رکھتا ہے اس لئے کیوں اسے ہزاروں سال پیچھے ڈالتے ہیں۔اپنے یقین کا دل بڑھا ئیں تو یہ فتح تیزی کے ساتھ آپ کی طرف بڑھنی شروع ہو جائے گی، کیوں اگلی صدیوں میں اس کو دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیوں اپنے یقین کا معیار بلند کر کے اسے اس صدی میں لانے کی کوشش نہیں کرتے ؟ اس لئے جب یہ کہا جاتا ہے کہ ہر احمدی ایک احمدی بنائے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہاں ، سننے میں تو بہت اچھی بات ہے لیکن ہوتا نہیں۔پس جہاں یہ ہوتا نہیں کا شیطان دل میں داخل ہوا و ہیں کام ختم ہونا شروع ہو گیا۔کہتے ہیں اربع ہے، حساب ہے ہر آدمی کہاں بنا سکتا ہے۔یہ خیال دل میں آتے ہی آپ یقین کریں کہ شیطان دل میں داخل ہو گیا۔مایوسی ہی کا نام خدا نے شیطان رکھا ہے اور شیطان کا نام مایوسی ہے اور عمل کو ذلیل اور رسوا کرنے والا سب سے بڑا مہلک ہتھیار مایوسی ہے اس کے بعد عمل خاک ہو جاتا ہے کچھ بھی اس میں باقی نہیں رہتا، کچھ پیدا کرنے کی طاقت نہیں رہتی اس میں۔ہر احمدی کے لئے فرض ہے کہ اپنے دل میں یقین رکھے کہ ہاں ممکن ہے اور یقینا ہوگا اور اگر میں یہ فیصلہ کروں گا کہ میں نے بنانا ہے تو لازماً بنا سکوں گا۔اگر یہ یقین ہی نہیں ہے تو آپ نے کرنا کیا ہے پھر دنیا میں۔پھر ان لوگوں میں آپ کا شمار کیسے ہو سکتا ہے جن کے متعلق قرآن کی ابتدائی آیات کہتی ہیں: