خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 92
خطبات طاہر جلد ۶ 92 92 خطبہ جمعہ ۶ فروری ۱۹۸۷ء قبولیت سے نوازتے ہوئے پھل دیا اور بہت شیریں پھل دیا جو فوراً آگے بیج میں تبدیل ہو گیا پھر اس سے بھی اچھے پھل لگے تو بعض ممالک میں تو اس تحریک سے بڑی رونق آگئی ہے اور نئے نئے ممالک احمدیت میں داخل ہوئے ہیں اور خدا کے فضل سے اکثر و بیشتر داعیین الی اللہ کی محنت کا اس میں بہت دخل ہے اور جب نئے پودے لگ جاتے ہیں کسی ملک میں تو پھر باقاعدہ تربیت یافتہ مربیان بھی بھیجے جاتے ہیں پھر وہ اور زیادہ کام کو منظم کرتے ہیں۔لیکن بعض ممالک ہیں جن میں ابھی تک غفلت ہے یا کام کا سلیقہ نہیں ہے۔وقف عارضی کو استعمال کرتے ہیں لیکن اس طریق پر نہیں کہ کسی ایک جگہ بار بار بات دہرائی جائے یہاں تک کہ وہ اثر کرنے لگ جائے بلکہ وقف عارضی اس طرح ہوتا ہے جیسے کبھی ایک جگہ کوئی انسان گندم کا چھٹہ ڈال جائے کبھی کسی دوسری جگہ چلا جائے کبھی کسی تیسری جگہ چلا جائے اور پانی دینے لگے تو پانی دوسری زمینوں کو دینے لگے ایک دانہ بھی نہیں اُگے گا اس طرح تو۔اُگے گا تو ضائع ہو جائے گا۔وقف عارضی سے بھی اگر فائدہ اٹھانا ہے ان ملکوں کو تو منظم طریقے پر اٹھانا چاہئے جہاں پہلا وفد گیا ہے جو تعلقات اس نے قائم کئے ہیں انہیں تعلقات کا اعادہ جب تک نہیں کرتا اگلا وفد اور ا نہی جگہوں پر جا کہ محنت نہیں کرتا اس وقت تک یہ توقع رکھنا کہ ہم بڑا کام کر رہے ہیں اور اس کا پھل بھی ملے گا۔قسمت سے قدرت سے تو پھل مل جائے تو الگ بات ہے اس سے تو انکار ہی نہیں ہے اور خدا دیتا رہتا ہے ایسے پھل مگر با قاعدہ منصوبہ بندی کے طریق پر پھل حاصل کرنے کا اسلوب نہیں ہے جو خدا نے ہمیں سکھایا ہو۔اس کے لئے تو حکمت اور عقل کے ساتھ باقاعدہ ایسی محنت کو دُہرانا پڑے گا جو بار بار دہرانے کے بعد پھل دیتی ہے اور اسی طریقے اور منصوبے سے دہرانا پڑے گا۔ہر کام کے اپنے اسلوب ہیں اپنے طریق ہیں ان کو اختیار کئے بغیر ہماری بہت سی محنتیں بالکل ضائع چلی جاتی ہیں ان کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔اس لئے اپنے منصوبوں پر نظر ڈالیں۔سارے ممالک جنہوں نے بعض نئے ممالک میں خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ اسلام کا پودا لگا نا تھا وہ سوچیں کہ کیوں نہیں لگا سکے غفلتیں تھیں تو غفلتیں دور کریں اگر منصوبے میں کمزوریاں تھیں تو ان کو ٹھیک کریں اور دعاؤں میں کمی تھی تو دعائیں کریں۔بہر حال میدان کا اپنا کام ہے کہ اپنے گردوپیش کا جائزہ لے کر از سر نو بلند عزم کے ساتھ یہ کام شروع کر دیں۔سب سے بڑا خلا جواب تک محسوس ہوا ہے وہ جنوبی امریکہ کے براعظم میں محسوس ہوا ہے۔