خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 832 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 832

خطبات طاہر جلد ۶ 832 خطبہ جمعہ ۴ رد سمبر ۱۹۸۷ء لئے ؟ نواب محمد علی خان کے تعلق کی وجہ سے نہ کہ اس بچے کے تعلق کی وجہ سے۔ابھی اس بچہ کا براہ راست حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کوئی تعلق محبت کا پیدا ہی نہیں ہوسکتا تھا۔بعض اپنے غلام بعض محبت کرنے والے پیار کرنے والے اتنے پیارے ہوتے ہیں کہ ان کی تکلیف جس کی وجہ سے ہو وہ تکلیف دور کرنا مقصد ہوتا ہے وہ ذات جس کی وجہ سے وہ تکلیف ہے وہ براہ راست توجہ کا مرکز نہیں ہوتی۔پس وہاں شفاعت میں لمن سے مراد حضرت نواب محمد علی خان صاحب بنتے ہیں نہ کہ وہ بچہ جس کے لئے دعا کی گئی۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه : ۲۲۹) اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعض دوسری جگہ اپنی شفاعت کے مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے یہ کہا اور یہ سوچا کہ خدا کے ایک فلاں نیک بندے نے اس لئے یہ کام کیا تھا۔اے خدا! اس لئے تو رحم فرما اور اس مصیبت کو ٹال دے۔مثلاً جب عبد الکریم کے لئے شفاعت فرمائی یا شفاعت کی اجازت فرمائی گئی اور آپ کو آپ نے پھر شفاعت کی اور وہ غیر معمولی طور پر شفاعت پا گیا آج تک میڈیکل ہسٹری میں ایسا واقعہ نہیں دیکھا گیا کہ کسی کو کتے کے کاٹے کا جنون پیدا ہو جائے اور ساری علامتیں ظاہر ہو جائیں اور اس کے بعد وہ بغیر کسی ظاہری وجہ کے بغیر کسی دوائی کے از خود کلیۂ شفا جائے لمبی عمر پائے اس کا کوئی بداثر نہ رہے اس کی اولاد پیدا ہو یہ ایک ایسی بات تھی جو ناممکن تھی۔آپ نے شفاعت کی لیکن اس کے پس منظر میں آپ بتاتے ہیں کہ میرے دل میں درد اس لئے پیدا ہوا تھا محض اس لڑکے کی خاطر نہیں ورنہ تو ہر دیوانے کتے کے کاٹے ہوئے کے لئے درد پیدا ہو جانا چاہئے اس لئے پیدا ہوا کہ اس کے باپ نے بڑے اخلاص کے ساتھ اس کو بہت دور سے بھجوایا تھا اور اس نیت کے ساتھ بھیجا تھا کہ خالصہ دین کی خدمت کے لئے علم سیکھے اور میری صحبت میری تربیت میں بڑا ہو اور باہر جا کر خدا کے دین کی خدمت کرے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه :۴۸۰) پس ” کا لفظ بہت اہمیت رکھتا ہے اس کو سمجھے بغیر کئی دفعہ آپ ایسی الجھنوں میں مبتلا ہو 66 جائیں گے کہ سمجھ نہیں آئے گی کہ خدا نے تو کہا کہ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضُی بظاہر دعا قبول ہوئی ہے شفاعت قبول ہوئی ہے لیکن جس شخص کے حق میں ہوئی ہے وہ اہم نظر نہیں آرہا۔وہاں آپ نے ” “ کا اشارہ نہیں سمجھا وہ شفاعت کسی اور کی خاطر قبول ہوئی ہوتی ہے اور وہ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا