خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 73
خطبات طاہر جلد ۶ 73 الله خطبہ جمعہ ۳۰/جنوری ۱۹۸۷ء سکے اور یہ صورت حال صرف انگلستان پر ہی صادق نہیں آرہی بلکہ دنیا کے اور بہت سے ممالک ہیں، یورپ کے بھی اور بعض اور جگہوں پر بھی جہاں یہی کیفیت ہے اور وقت اتنا تھوڑا رہ گیا ہے کہ صرف دو سال رہ گئے ہیں۔اس لئے اب اس کام کو غیر معمولی طور پر اہمیت دے کر دوبارہ اپنے ہاتھ میں لیں۔جولوگ داعی الی اللہ بن چکے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بے حد مبارک فرمائے لیکن جو نہیں بنے ابھی تک ان کو فوراً توجہ کرنی چاہئے اور جو بن چکے ہیں ان کو اپنے کاموں کا جائزہ لینا چاہئے کہ آیا ان کی کوششیں پھل پیدا کر بھی رہی ہیں کہ نہیں۔بعض ایسے نوجوان ہیں یا بڑی عمر کے بھی جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ پورے خلوص اور تقویٰ کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دینے کے پروگرام میں شامل ہوئے اور ان کو ہر سال اللہ تعالیٰ پھل دے رہا ہے۔انہی جگہوں پر دے رہا ہے جنہیں آپ بے پھل کی جگہیں سمجھتے ہیں۔انہی زمینوں پر پھل دے رہا ہے جنہیں آپ سنگلاخ سمجھتے ہیں۔اس لئے یہ بہانہ تو خدا تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ہوگا کہ ہم ایسے ملک میں رہتے تھے جہاں دنیا ترستی تھی ، دنیا داری میں لوگ اتنا بڑھ گئے تھے کہ بات نہیں سنتے تھے۔بات سنانے کا ڈھنگ سیکھنا پڑے گا۔اور بات سنانے کے ڈھنگ میں خدا تعالیٰ نے یہ ہمیں بتایا ہے کہ تقویٰ کا مضمون داخل ہے۔جتنا زیادہ تقویٰ ہوا تناہی بات میں زیادہ اثر ہوتا چلا جاتا ہے، ورنہ خالی چالا کی کام نہیں آتی ، خالی علم کام نہیں آتا۔اس لئے بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے اندرونی تقویٰ کا معیار بلند کرنا ہو گا۔اور صرف یہ نہ سوچیں کہ فلاں میں نقص تھا اس لئے بات نہیں سنی گئی یہ بھی غور کریں کہ کہیں کہنے والے میں تو نقص نہیں ہے۔یہی بات ایک اور شخص کہتا ہے تو اثر رکھتی ہے، یہی بات ایک اور شخص کہہ رہا ہے تو اثر کھو دیتی ہے۔اس لئے بات کا قصور نہیں۔ہوسکتا ہے سننے والے کا قصور ہولیکن بعید نہیں کے سننے والے کا بھی قصور نہ ہو بلکہ سنانے والے کا قصور ہو۔اس لئے اپنا جائزہ پورا کر لیں اور دیکھ لیں کہ کیا کمی رہ گئی ہے بات میں، اس کے انداز میں یا سنت کے مطابق تھی بھی کہ نہیں آپ کی تبلیغ اور اس کو درست کریں۔اس کے نوک پلک درست کریں، اسے خوبصورت بنائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دعوت الی اللہ کے ساتھ حسن قول کا ذکر فرمایا ہے اور پھر حسن عمل کا ذکر فرمایا ہے۔قول بھی حسین کریں اور وہ عمل جو اس حسین قول کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ رکھتا ہے جس کے بغیر قول حسین بنتا نہیں وہ حسین عمل بھی پیدا کریں اور پھر دعا کریں تا کہ